اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی، زمبابوے کے سابق کپتان پر 8 سال کی پابندی عائد

اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی، زمبابوے کے سابق کپتان پر 8 سال کی پابندی عائد

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر زمبابوے کے سابق کپتان ہیتھ اسٹریک پر 8سال کی پابندی عائد کردی۔

ہیتھ اسٹریک پر کرپشن میں ملوث شخص سے بٹ کوائن میں رقم وصول کرنے سمیت آئی سی سی کے اینٹی کرپشن قوانین کی پانچ شقوں کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

زمبابوے کی تاریخ کے عظیم ترین فاسٹ باؤلر تصور کیے جانے والے ہیتھ اسٹریک 2017 اور 2018 میں کھیلے گئے میچ کی وجہ سے مسلسل زیر تفتیش تھے اور یہ میچز اس وقت کھیلے گئے جب وہ زمبابوے کی کوچنگ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

وہ 2016 سے 2018 تک زمبابوے کے کوچ رہنے کے ساتھ ساتھ انڈین پریمیئر لیگ، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ اور افغانستان پریمیئر لیگ سے بھی منسلک رہے۔

ہیتھ اسٹریک پر الزام ہے کہ انہوں نے کرپٹ سرگرمیوں میں ملوث افراد کا ٹیم کے کھلاڑیوں سے رابطہ کرانے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا جبکہ ان پر کرپٹ افراد کی جانب سے رابطے کے بارے میں آگاہ نہ کرنے اور ان سے تحائف اور رقوم وغیرہ وصول کرنے کا بھی الزام ہے۔

زمبابوے کے سابق کپتان پر الزام ہے کہ انہیں دو بٹ کوائن کی شکل میں رقم کی ادائیگی کی گئی جس کی مالیت 35ہزار ڈالر بنتی ہے جبکہ انہیں ایک آئی فون بھی بور تحفہ دیا گیا تھا لیکن اس حوالے سے بھی انہوں نے آگاہ نہیں کیا۔

کرک انفو کے مطابق ہیتھ اسٹریک نے ابتدائی طور پر ان الزامات کا عدالت میں سامنا کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ٹھوس شواہد کو دیکھتے ہوئے انہوں نے الزامات اور سزا کو قبول کر لیا ہے۔

ان پر 8 سال کے لیے ہر طرز کی کرکٹ میں شمولیت پر پابندی عائد کردی ہے اور 28 مارچ 2029 سے دوبارہ کھیلوں کی سرگرمیوں کا حصہ بن سکیں گے۔

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کے سربراہ ایلکس مارشل نے کہا کہ ہیتھ اسٹریک ایک تجربہ کار سابق کرکٹر ہیں اور قومی ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ متعدد ایسے سیشنز میں شرکت کر چکے ہیں جس میں کرپٹ سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی لہذا وہ اپنی ذمے داریوں سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ سابق کپتان اور کوچ کی حیثیت سے ان پر ذمے داری عائد ہوتی تھی کہ وہ کھیل کی شفافیت کو برقرار رکھیں لیکن انہوں نے ناصرف متعدد مرتبہ ان قواعد کی خلاف ورزی کی بلکہ چار کھلاڑیوں کی کرپٹ عناصر تک رسائی کا سبب بھی بنے جبکہ انہوں نے ہماری تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کی بھی کوشش کی۔

ایلکس مارشل نے کہا کہ اسٹریک کے اقدامات سے میچ کے نتیجے پر کوئی فرق نہیں پڑا اور انہوں نے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن تعلیمی پروگرام سے تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

زمبابوے کے سابق کھلاڑیوں سمیت کھیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہیتھ اسٹریک کی سرگرمیوں پر پابندی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

زمبابوے کے سابق وزیر کھیل ڈیوڈ کولارٹ نے اس رویے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے افعال کے لیے کوئی عذر قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن نے کرکٹ کو بین الاقوامی سطح پر متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ زمبابوے کرکٹ کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے اور اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا چاہیے۔

زمبابوے کے سابق کپتان ہیتھ اسٹریک 90 کی دہائی میں زمبابوے کی ٹیم کے اہم رکن تصور کیے جاتے تھے اور انہوں نے اپنی عمدہ باؤلنگ اور بیٹنگ سے کئی میچز میں زمبابوے کو فتح دلائی۔

نامور آل راؤڈر کو 65 ٹیسٹ اور 189 ون ڈے میچز میں زمبابوے کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے اور اس دوران انہوں نے 450 سے زائد وکٹیں لینے کے ساتھ ساتھ 4 ہزار 933 رنز بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ زمبابوے کی کوچنگ کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف لیگز میں بھی بطور کوچ فرنچائزوں سے منسلک رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں