نیوزی لینڈ میں ڈھیر کرکٹرزگھرپر شیر بننے کے خواہاں

نیوزی لینڈ میں ڈھیر کرکٹرزگھرپر شیر بننے کے خواہاں

روٹھے پرستاروں کو منانے کیلیے کوشاں پاکستان ٹیم کیویز کا غصہ پروٹیز پر اتارنے کے منصوبے بنانے لگی جب کہ نیوزی لینڈ میں ڈھیر کرکٹرزگھرپر شیر بننے کے خواہاں ہیں۔

پی سی بی پوڈ کاسٹ اور ایک انٹرویو میں قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہاکہ پہلے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں پاکستان نے کم بیک کیا، فائٹ کرتے ہوئے میچ کو آخری 5 اوورز تک لے گئے، اس سے ظاہر ہوا کہ ٹیم مشکل حالات اور کنڈیشز میں بھی مقابلے کی صلاحیت رکھتی ہے، دوسرے میچ سے قبل پرستاروں کی توقعات بڑھ گئی تھیں،اس کے بعد کارکردگی کا گراف نیچے جانے پر تنقید جائز ہے۔

مصباح نے کہا کہ ہم بہترپرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے مگر نہیں کر سکے، میچز کے دوران مواقع ملے بھی تو فائدہ نہیں اٹھایا، اس پر مایوسی بھی ہوئی، اصل مقصد جیت ہے جو حاصل نہ ہو تو تنقید ہوگی، اس کو مثبت انداز میں لیتے ہوئے کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ آنے کے بعد کورونا پروٹوکولز کی وجہ سے مسائل ہوئے۔ ان حالات میں سیریز کا آغاز کھلاڑیوں کیلیے ایک مشکل مرحلہ تھا،اسی تیاری کے ساتھ پہلے ٹی ٹوئنٹی اور پھر ٹیسٹ میچز کھیلے، بابر اعظم مختصر فارمیٹ میں دنیا کے بہترین بیٹسمین ہیں، ان کی ٹیسٹ پرفارمنس میں بھی مسلسل نکھار آرہا ہے۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ نوجوان بیٹسمین حریف پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں لیکن انجری کی وجہ سے خدمات میسر نہیں تھیں،ٹیم نے جزوی طور پر چند مواقع پر بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن بڑی ٹیموں کیخلاف جیت کیلیے مجموعی کارکردگی ضروری ہے، خاص طور ہمیں ناقص فیلڈنگ نے بہت نقصان پہنچایا،ڈراپ کیچز ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہیں، ایک بڑا فرق گرین کیپس کا مواقع ضائع کرنا تھا،دوسری جانب کیویز نے مکمل ڈسپلن کا مظاہرہ کیا اور خود کو تینوں شعبوں میں بہتر ٹیم ثابت کیا۔

مصباح الحق نے کہا کہ اس ٹور سے نوجوان پیسرز شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ نے سیکھا ہوگا کہ میزبان بولرز نے کس طرح پرفارم کیا، ناکامیوں کے باوجود منفی کے ساتھ کچھ مثبت پہلو بھی تھے،محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ میں اچھی اننگز کھیلیں، فہیم اشرف بہتر کرکٹر کے طور پر سامنے آئے، فواد عالم نے متاثر کن اننگز کھیلی، بہرحال بڑی ٹیموں کیخلاف بہتر نتائج کیلیے غلطیاں سدھارنے کی ضرورت ہے، ہمیں آگے بڑھنا ہے تو اپنی پرفارمنس میں بہتری لانا ہوگی، اس طرح کاکھیل کسی بھی طرح قابل قبول نہیں، پرستاروں سمیت سب کے لیے یہ صورتحال مایوس کن ہے۔

انہوں نے کہا کہکرکٹ میں ایسا ہوتا ہے لیکن ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہوگاکہ اکثر میچ جیتنے کے قریب پہنچ کر کیوں ہارجاتے ہیں، آئندہ سیریز میں اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی، جنوبی افریقہ کیخلاف ہوم کنڈیشنز کو پیش نظر رکھتے ہوئے جن تبدیلیوں کی ضرورت ہوگی وہ مل بیٹھ کر مشاورت سے ضرور کریں گے، ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو بھی زیر غور لایا جائے گا،ہر ٹیم کو ہوم کنڈیشنز کا ایڈوانٹیج ہوتا ہے، ہم بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے پروٹیزکیخلاف کامیابی کی کوشش کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں