ٹی ٹوئنٹی کا میدان اب ہوگا خوب گرم، بڑے کھلاڑی کی واپسی کا اعلان شائقین خیران

جنوبی افریقہ کے سابق کپتان و مایہ ناز بلے باز اے بی ڈویلیئرز نے رواں سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں واپسی کا عندیہ دے دیا۔

انہوں نے آج آسٹریلیا میں جاری ٹی ٹوئنٹی بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو 40 رنز کی عمدہ اننگز سے فتح دلائی۔

بعد ازاں ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں واپسی کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے بہت کچھ چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروٹیز ٹیم کی نئی انتظامیہ جن میں ڈائریکٹر گریم اسمتھ، کوچ مارک باؤچر اور کپتان فاف ڈو پلسی سے رابطے میں ہوں اور ہم سب مل کر اس پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں خود کو اور اپنے مداحوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتا، ابھی میری ساری توجہ اچھی کرکٹ کھیلنے کی جانب گامزن ہے۔

بورڈ میں نئی انتظامیہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے اکثر لوگوں کے ساتھ کئی سال کرکٹ کھیلی ہے تو ان کے ساتھ رابطے میں مجھے کسی دشواری کا سامنا نہیں ہے۔

واضح رہے گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ کے کپتان فاف ڈو پلسی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ٹیم انتظامیہ سابق کپتان و مایہ ناز بلے باز اے بی ڈویلیئرز سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لئے ٹیم میں واپسی سے متعلق بات چیت کر رہی ہے۔

اس سے قبل پروٹیز کے نومنتخب کوچ مارک بوچر نے دو دن قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ سابق کپتان سے ٹیم میں واپسی کے لئے بات کریں گے۔

جنوبی افریقہ کے کپتان کا کہنا تھا کہ شائقین کے ساتھ ساتھ میں بھی چاہتا ہوں کہ اے بی ٹیم میں واپس آئیں، اور ٹیم انتظامیہ اس سلسلے میں گزشتہ تین ماہ سے ان سے رابطے میں ہے۔

یاد رہے گزشتہ سال جارح مزاج بلے باز ابراہم بینجامن ڈی ویلئیر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے عالمی کپ سے قبل جنوبی افریقہ کے سابق کوچ نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے اے بی ڈی ویلیئرز سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لینے کی التجا کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر قائم ہو گیا تھا کہ اے بی اپنی مرضی کے مطابق ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دیتے تھے جب کہ اس بات میں حقیقت نہیں تھی، میں نے خود اے بی کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ورلڈ کپ 2019 کے لئے تیار کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اے بی پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ وہ عالمی کپ سے قبل پاکستان اور سری لنکا کے مابین سیریز کھیلیں گے مگر انہوں نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور بنگلہ دیش کی لیگ کھیلنے کو ترجیح دی۔

ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقین کرکٹ بورڈ کو انتظامیہ کی جانب سے بتا دیا گیا تھا کہ چونکہ اے بی ڈی ویلیئرز 12 ماہ میں کوئی بین الاقوامی اور مقامی کرکٹ نہیں کھیلے اس لئے انہیں منتخب نہ کیا جائے۔

زونڈی نے کہا کہ بے شک اے بی دنیائے کرکٹ کے ایک بڑے کھلاڑی ہیں، تاہم اصول و ضوابط ہمارے لئے ان تمام باتوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، اس لئے اس فیصلے پر ہمیں کوئی پچھتاوا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں