پاکستانی خبریں

جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ اچھے تعلقات بھی رہے اور خراب بھی رہے: فواد چوہدری

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ نے ہماری کوئی مدد نہیں کی تھی۔

سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ 2018 میں ہم زیادہ نشستوں سے کامیاب ہوتے، انتخابات میں ہمارے کچھ نمائندے تو ہزار، ہزار ووٹوں سے ہارے ہیں، ہمیں توقع سے کم نشستیں ملی تھیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان 2018 میں بھی ملک کے مقبول لیڈر تھے اور سب کو تحریک انصاف کی کامیابی نظر آرہی تھی اسی لیے لوگ آئے، اگر پارٹی ہار رہی ہوتی تو کوئی ’ترین‘ کے جہاز میں نہ بیٹھتا۔

ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے ساتھ اچھے تعلقات بھی رہے اور خراب بھی رہے، مدت میں توسیع کیا سیاست دان دیتے ہیں یا پوچھ کر دی جاتی ہے؟ ادارے کی جانب سے درخواست آتی ہے جو فرمان ہوتا اور پورا ہوتا ہے۔

’ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہوتا ہے‘

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہوتا ہے اس کے برعکس بھارت میں اسٹیبلشمنٹ بیورو کریسی ہے پاکستان میں ادارے ہیں۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ نواز شریف اور فیملی میڈیکل رپورٹس کیسے بنیں یہ بھی تاریخ ہے لیکن یہ کہنا کہ پی ٹی آئی میں لوگ کسی کی ہدایت پر شامل ہوئے تھے غلط ہے۔

Related Articles

Back to top button