پاکستانی خبریں

کشمیر کے بارے میں بھارتی سپریم کورٹ کا انتہائی شرمناک فیصلہ آگیا مگر کیا؟ جان کر آپ کے پیروں تلے زمین نا رہے

بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کی چاپلوسی میں بی جے پی کے کارکنوں کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے انتہائی شرمناک فیصلہ سنادیا۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے مودی سرکار کے اقدام کے خلاف دائر 5 درخواستوں کو تکنیکی بنیادوں پر ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردیا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے پر مودی سرکار کو مزید وقت دینا چاہیے ۔

مودی سرکار کی محبت میں انسانی حقوق کی محافظ عدالت نے ان حقوق کی ہی ایسی پامالی بھی کر ڈالی جس کی دنیا میں کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے نہ تو کرفیو ہٹایا جائے گا اور نہ ہی انٹرنیٹ، موبائل فون اور لینڈ لائن کی بندش ختم ہوگی۔

خیال رہے کہ 8 اگست کو بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کے جج جسٹس رمانا نے یہ کہہ کر کرنے سے انکار کردیا تھا کہ درخواستوں پر فیصلہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کریں گے۔

جمعہ کے روز مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے کی ۔ کیس کی سماعت کے دوران وریندرا گروور نامی وکیل نے مقبوضہ کشمیر میں لینڈ لائن سروس کھولنے کی درخواست کی تو انڈین چیف جسٹس نے انہیں جھاڑ پلادی۔ جسٹس رنجن گوگوئی نے وکیل سے کہا ’ میڈیا پر آرہا ہے کہ آج شام تک لینڈ لائن سروس بحال کردی جائے گی، تو کیا آپ اتنا بھی انتظار نہیں کرسکتے؟۔

Related Articles

Back to top button