پاکستانی خبریں

انتخابات 20 سیٹوں کا نہیں، حمزہ شہباز کے مستقبل کا ہے: شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پنجاب میں 20 ضمنی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہونے والا ہے، اور اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنی ذمہ داری سے غافل رہا تو جمہوریت کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔

شاہ محمود قریشی کا لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر ان 20 ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنی ساکھ کھو دی تو آپ عام انتخابات دفن کردیں گے، قوم عام انتخابات کے نتائج قبول نہیں کرے گی۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے طور طریقے اور تیور دیکھ رہا ہوں، ان کا انداز اور سوچ مختلف دکھائی دے رہی ہے، اور وہ الیکشن کمیشن کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گے، یہ انتخابات 20 سیٹوں کا نہیں بلکہ حمزہ شہباز کے مستقبل کا ہے، اپنا مستقبل بچانے کے لیے وہ اپنی الیکشن کیشن کی ساکھ کو داؤ پر لگا سکتے ہیں، وہ پنجاب حکومت کے وسائل اور انتظامیہ کو اپنی وزارت اعلیٰ کے تحفظ کے لیے جھونک سکتے ہیں، وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جن لوگوں کو ٹکٹ دیے گئے ہیں ان کے کان میں کہا گیا کہ گھبرائیے نہیں یہ الیکشن آپ کا نہیں حمزہ شہباز کا ہے، اور حمزہ شہباز نے وزارت اعلیٰ بچانے کے لیے آپ کو سیٹیں دلوانی ہیں، جیتنی نہیں ہیں۔

 

سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بازار میں بازگشت ہے کہ 18 سیٹیں مسلم لیگ (ن) کی جبکہ 2 سیٹیں پی ٹی آئی کی ہیں، ابھی تو انتخابی نشانات بھی الاٹ نہیں ہوئے ہیں، کاغذات نامزدگی کا بھی واپس لیا جانا ہے، اور اگر بازار میں باتیں ہورہی ہیں کہ کس طرح تانے بانے بنے جارہے ہیں، اس سے خوفناک صورتحال جنم لے سکتی ہے۔

قبل ازیں پریس کانفرس میں ان کا کہنا تھا کہ آج کا موضوع ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے قوم کی کیا توقعات ہیں؟ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری کیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری صاف شفاف اور قابل بھروسہ الیکشن کروانا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت اس آئینی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ان کو وسائل فراہم کرتی ہے، عملہ فراہم کرتی ہے، الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے، کوئی ان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا، قانونی اور مالی لحاظ سے یہ آزاد ادارہ ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قوم توقع کرتی ہے جس پر قوم کے ٹیکس کا پیسہ خرچ ہوتا ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں جتنے انتخابات ہوئے ہیں وہ لوگوں نے تسلیم نہیں کیے، 70 کے بعد ہونے والے تمام تر انتخابات پر سوالیہ نشان لگے؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کب تک پاکستان اس مرحلے سے دوچار رہے گا؟ اور گر جمہوری قوتوں نے رائج ہونا ہے، تو ہمیں کب خودمختار اور آزاد الیکشن کمیشن کب ملے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ جب جوڈیشل کمیشن قائم ہوا، تحریک انصاف نے پورا تعاون کیا، جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جو کمیشن بنا تھا، فافن اور یورپی یونین کی تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے ہم آگے بڑھے، آج بھی انتخابی اصلاحات کے لیے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کا اعتماد الیکشن کمیشن پر بڑھنے کے بجائے کم ہوتا جارہا ہے، اس کی وجہ ان کی کارکردگی ہے، کراچی میں ایک ضمنی انتخاب کو بھی وہ سنبھال نہ سکے اور وہاں ہلاکت ہوجائے، ماسوائے جیتنے والی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے علاوہ تمام جماعتوں نے اس انتخاب کو مسترد کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کس طرح ملک میں نئی روایت قائم ہوگی اور آگے کیسے بڑھیں گے؟

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہونے والا ہے کیونکہ پنجاب میں 20 ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں، اگر ان 20 ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنی ساکھ کھو دی تو آپ عام انتخابات دفن کردیں گے، قوم عام انتخابات کے نتائج قبول نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ 14 اضلاع میں ہونے والے انتخابات کے ڈپٹی کمشنرز کو کہا گیا ہے کہ تمہارا مستقل ان ضمنی انتخابات سے جڑا ہوا ہے، اگر نتیجہ نہیں آیا تو تم وہاں نہیں رہو گے۔

الزام عائد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملتان میں ضلعی انتظامیہ پریس کانفرنس کروانے میں معاونت کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہاں کے کاروباری طبقے کے پاس رات کے وقت افسران جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تعاون کیجئے ورنہ ایف بی آر میں کچھ معاملات بھی تو ہوں گے، ہوسکتا ہے کچھ ٹیکس کے معاملات زیر التوا ہوں، اچھی انگریزی اور اچھی اردو میں ان کو پیار سے پیغام دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک حربہ جو آزمایا گیا ہے ملتان میں زین قریشی تحریک انصاف کے امیدوار ہیں، ہمارے ساتھ اسپیشل برانچ کا سادہ لباس میں ایک بندہ موجود ہوتا ہے، ہم جہاں پر ووٹ مانگنے جاتے ہیں ہماری گفتگو کو ریکارڈ کرکے ویڈیو کلپ بنا کر شام کو ایڈمنسٹریشن کے پاس جاتے ہیں، اس کے بعد رات ہی کو ان کے پاس لوگ پہنچ جاتے ہیں کہ آپ تحریک انصاف کو کیوں سپورٹ کررہے ہیں، کیا خدمت کرسکتے ہیں۔

انہوں نے حمزہ شہباز سے سوال پوچھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین رانا فاروق اور خانیوال والے رانا سلیم کو سرکاری گاڑی پر لاہور بلایا، ان سے ملاقات کی اور کس چیز کا وعدہ کیا؟ کیا تم بتانے کو تیار ہو؟ وگرنہ میں بتا دوں گا، تم نے اس کی وفاداری تبدیل کروائی ہے؟ باقاعدہ فوٹجیز و تصاویر ہیں کہ کس طرح پی ٹی آئی چیئرمین کی وفاداری تبدیل کروائی گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یونین کونسل سطح کے لوگوں کو بلا کر حمزہ شہباز سے ملایا جارہا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ شیڈول کے بعد ترقیاتی کام نہیں کروا سکتے، جبکہ حلقوں میں مسلسل ترقیاتی کام ہورہے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے حلقہ 217 کے امیدوار کا ریکارڈڈ کلپ ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ 17 جولائی سے پہلے پہلے یہ، یہ کام ہو جائیں گے، وہ کلپ میں نے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ نیوٹرلز ہیں تو اس امیدوار سے پوچھا یا نہیں پوچھا، اگر آپ نے نہیں پوچھا تو جو 9 جون کو پریس ریلیز جاری کی تھی اس کی کیا حقیقت ہے، پنجاب کے لوگ جاننا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا اس حوالے سے ہر طرف خاموشی ہے جبکہ جمہوریت کے علمبردار بھی خاموش ہیں۔

لاہور کے حلقہ 167 میں تحریک انصاف کے دفتر پر حملہ ہوا، ہمارے امیدوار کو اللہ نے بچا لیا، اس کا کام تو تمام کر دیا تھا، زخمی ہم ہوئے اور پرچہ بھی ہم پر کٹا ہے، ہم نے سنا تھا کہ الٹی گنگا بہتی ہے، حمزہ تم نے اس بات کو ثابت کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ملتان سے کئی بار ملاقات ہوئی ہے، وہ ملنے سے کترا رہے تھے، ڈرے ہوئے اور خوف میں لگ رہے تھے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے بینرز اتارے جارہے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے بھی اتروا دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب فکس الیکشن ہوتے ہیں تو اس کا ردعمل آتا ہے، 1977 ذوالفقار علی بھٹو نے انتظامیہ کو استعمال کیا جس کے سبب پورے انتخابات پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا، اس کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضا قائم ہوئی اور 5 جولائی کو ضیا الحق آ گئے، ہم کب تک ان غلطیوں کو دھرائیں گے۔

چیف الیکشن کمیشن نے شاہ محمود قریشی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات پرصوبائی الیکشن کمشنر پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت دی کہ ملتان سمیت دیگر 19 حلقوں میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر قانون کے تحت سخت سے سخت کارروائی کی جائے اور تمام کارروائی سے چیف الیکشن کمشنر کو فوری آگاہ کیا جائے۔

Related Articles

Back to top button