پاکستانی خبریں

کسی سے ڈیل نہیں ہوئی، اسلام آباد میں بیٹھ جاتا تو خون خرابا ہوتا: عمران خان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ میری کسی سے ڈیل ہوئی اور نہ کمزوری تھی اگر میں بیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہونا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے کسی بھی خطرے کے پیش نظر دھرنا نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ میں جب تک زندہ ہوں امپورٹڈ حکومت کے سامنے کھڑا ہوں گا۔ مجھے صرف اپنے ملک کی فکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چھ دن دے رہے ہیں اگر انہوں نے واضح طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا اور اسمبلیاں تحلیل نہ کیں تو میں پھر سے نکلوں گا اور اب ہم تیاری کر کے نکلیں گے۔ ہم اس وقت جب نکلے تو ہماری کوئی تیاری نہیں تھی۔ پولیس کے تماشے دیکھ کر ہمارے لوگ غصے میں تھے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں سرینگر ہائی وے پر احتجاج کی اجازت نہیں مل رہی تھی اس لیے ہم نے اپنے کارکنان کو ڈی چوک پر جمع ہونے کا کہا تھا کیونکہ ہم نے اپنے کارکنان کو کہیں تو جمع کرنا تھا تاہم ہمیں ڈی چوک پہنچنے میں تاخیر ہوئی جس کی وجہ انتظامیہ کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے کارکنان کا جذبہ 20 گھنٹے دیکھتا رہا جس پر میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ اسلام آباد میں تو عام لوگ گھروں سے نکلے ہوئے تھے جن پر انتظامیہ کی جانب سے شیلنگ کی گئی۔ شیلنگ کے باوجود لوگ آتے گئے اور خواتین بھی کھڑی رہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں پوچھا ہے کہ کیا ہمیں احتجاج کرنے کا حق ہے کہ نہیں وہ بھی ان چوروں کے خلاف۔ اسمبلیوں میں اس وقت ہونے والا ڈرامہ غیر قانونی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں عدلیہ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا ہم بھیڑ بکریوں کی طرح حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مان لیں ؟ اس طرح ملک میں انتشار پھیلے گا۔ بسوں سے جس طرح وکیلوں اور عورتوں کو نکال کر مارا گیا ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ قوم کو پتہ چل جانا چاہیے کہ کون حق پر ہے اور کون ظلم کر رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button