پاکستانی خبریں

بھارت کی جانب سے ایک اور جھوٹا فلیگ آپریشن کا ‘واضح امکان’ ہے: دفترخارجہ

دفترخارجہ نے خبردار کیا ہے کہ پڑوسی ملک بھارت ‘ایک اور جھوٹا فلیگ آپریشن’ کرسکتا ہے ، جس کا ‘حقیقی امکان’ ہے۔

ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت مختلف امور کے حوالے سے بات کی۔

عاصم افتخار نے کہا کہ 5 جنوری کو کشمیریوں کا یوم حق خود ارادیت منایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس دن 1949 میں اقوام متحدہ کا کمیشن برائے بھارت اور پاکستان نے اپنی قرارداد میں اقوام متحدہ کی زیر سرپرستی آزاد اور غیرجانب رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی ضمانت دی تھی’۔

ان کا کہنا تھا کہ اس موقعے کی مناسب سے اپنے پیغامات میں صدر ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ جموں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اجاگر کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانیت پر ہونے والے جرائم کے احتساب کو یقینی بنائی۔

ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کے لیے اپنا کردار کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت کے حصول تک اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا جبکہ بھارتی فورسز مقبوضہ جموں اور کشمیر میں قتل عام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ رواں برس کے آغاز سے اب تک 15 کشمیریوں کو ماورائے قانون قتل کی جعلی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، اسی طرح 2021 میں 210 کشمیریوں کو قتل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت بدقسمتی سے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تشویش ہے اور مسلسل عالمی برادری کو بھارت کے ٹریک ریکارڈ سے بھی خبردار کر رہے ہیں اور یہ حقیقی امکان ہے کہ بھارت صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک اور فلیگ آپریشن کرسکتا ہے، اسی لیے ہم عالمی برداری میں موجود اپنے دوستوں کو اس حوالے سے مسلسل خبردار کر رہے ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لیں اور نئی دہلی کو انسانی حقوق اور عالمی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرائیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں اور کشمیر میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں اور اقوام متحدہ کے خصوصی اختیارات رکھنے والوں کو آزادانہ تحقیقات کی اجازت دے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام پڑوسیوں بشمول بھارت سب کے ساتھ پرامن تعلقات کے لیے پرعزم ہے۔

صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری بھارت کی ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے موافق ماحول پیدا کرے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیرذمہ دارنہ رویے اور منفی ذہنیت میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔

Related Articles

Back to top button