پاکستانی خبریں

جب طالبان سرحد کو تسلیم نہیں کرتے تو پاکستان آگے کیوں بڑھ رہا ہے: رضا ربانی

سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ طالبان نے افواج پاکستان کو افغان سرحد پر باڑ لگانے سے روک دیا، وہ سرحد کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو ہم آگے کیوں بڑھ رہے ہیں۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ جب تک صحیح جڑ کو پکڑ کر اس کے حل کے لیے کوشاں نہیں ہوگی ایسے واقعات مستقبل میں بھی سامنے آتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب ریاست کو ضرورت ہو تو پارلیمان کو استعمال کیا جاتا ہے، ہم طالبان کی حمایت تو کر رہے ہیں لیکن کوئی اس پر بات نہیں کرتا کہ افغانستان میں طالبان کی موجودگی پر ریاست کی پالیسی افغانستان کی طرف درست ہے یا نہیں۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ کیا وزیر خارجہ ایوان میں آکر بتانا پسند کریں گے کہ افغان سرحد پر باڑ لگانے سے افواج پاکستان کو روک دیا گیا، وہ سرحد کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو ہم آگے کیوں بڑھ رہے ہیں، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے گروپ افغانستان میں دوبارہ فعال ہو رہے ہیں جس سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا۔

یاد رہے کہ افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا تھا کہ طالبان فورسز نے اتوار کے روز پاکستانی فوج کو مشرقی صوبے ننگرہار کے ساتھ بقول ان کے ’غیر قانونی‘ سرحدی باڑ لگانے سے روک دیا۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ ریاست کو بتانا ہوگا کہ کن شرائط پر جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں، ریاست کے اداروں اور بالخصوص پارلیمنٹ کو جان بوجھ کر غیر فعال بنایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان گزشتہ ماہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں 6 نکاتی معاہدے کی تفصیلات بتائی گئی تھیں جس میں کہا گیا کہ ان کا 25 اکتوبر 2021 کو ’اسلامی امارات افغانستان (آئی ای اے) کی حمایت سے حکومت کے ساتھ سمجھوتہ ہوا تھا‘۔

بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے یکم نومبر سے 30 نومبر 2021 تک ایک ماہ کی جنگ بندی، حکومت کی جانب سے 102 ’قیدی مجاہدین‘ کی رہائی، انہیں اسلامی امارات افغانستان کے ذریعے ٹی ٹی پی کے حوالے کرنے اور یکم نومبر 2021 کو جنگ بندی کے حوالے سے مشترکہ بیان جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

رضا ربانی نے کہا کہ ریاست مزید خفیہ معاہدوں کی متحمل نہیں ہو سکتی، نیشنل ایکشن پلان پر پارلیمنٹ میں دوبارہ بحث کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ضیاالحق کی آمریت میں جو لوگ متبادل بیانیے کو جنم دیتے تھے، ریاستی پالیسی کے تحت اس سوچ کو ختم کیا گیا، پاکستان کی ریاست کا مطلب حکومتی اور فوجی بیورکریسی ہے، پارلیمان میں بیٹھے لوگ نہیں ہیں، اپنے سیاسی ایجنڈا کو آگے بڑھانے کے لیے ریاست نے مذہب کا استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میری ثقافت عربی ثقافت نہیں ہے، میری ثقافت وادی سندھ کی ثقافت ہے، میں نے ایک ایسے معاشرے میں جنم لیا جہاں ایک استاد کو یونیورسٹی میں آزادی حاصل نہیں ہوتی، عوام کو سیاسی اختلاف کا حق حاصل نہیں، اگر جج اس کے خلاف فیصلہ لکھتا ہے تو ریاست اس کو نشانہ بناتی ہے۔

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ لوگوں کو لاپتا بنادیا جاتا ہے، ریاست انہیں ایسی جگہ چھپا دیتی ہے جہاں ان کا سراغ ملنا مشکل ہوجاتا ہے، انتہا پسند گروپوں نے کراچی، لاہور، پشاور، سوات، مالاکنڈ میں متبادل عدالتیں بنائیں لیکن ریاست خاموش رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ عسکری گروپوں نے ریاست کے حق کو پارہ پارہ کردیا لیکن ریاست خاموش تماشائی بن کر کھڑی رہی، جب ایسی ریاست ہو تو آپ کیسے کہیں گے کہ عسکریت پسندی آگے نہیں بڑھے گی۔

شوکت ترین نے سینیٹر کا حلف اٹھا لیا

سینیٹ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا سے منتخب ہونے والے سینیٹر شوکت ترین نے حلف اٹھا لیا۔

وہ 20 دسمبر کو سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

گزشتہ ماہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ایوب آفریدی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد مشیر خزانہ شوکت ترین کے لیے سینیٹر بننے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔

خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی نشست پر الیکشن میں کُل 122 ووٹ کاسٹ کیے گئے جس میں سے 9 ووٹ مسترد ہوئے، 113 ووٹوں میں سے 87 ووٹ لے کر شوکت ترین سینیٹر منتخب ہوئے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار شوکت امیرزادہ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدواروں ظاہر شاہ کو 13، 13 ووٹ ملے۔

سانحہ سیالکوٹ پر قرارداد مذمت منظور

بعد ازاں سینیٹ میں سانحہ سیالکوٹ سے متعلق قرارداد مذمت منظور کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ کا ایک وفد سری لنکا کا دورہ کرے گا اور پریانتھا کمارا کے خاندان سے ملاقات کرے گا، وفد ان کے اہل خانہ کو سینیٹ سے منظور قرارداد پیش کرے گا۔

سینیٹ اجلاس سے خطاب میں سیالکوٹ میں 49 سالہ سری لنکن منیجر کی تشدد سے ہلاکت اور لاش کو جلانے کے واقعے پر مذمت کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو تشدد اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، 70 کی دہائی میں اس طرح کے حالات نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاالحق کے مارشل لا میں یہ چیزیں نظر آئیں، سیاسی مقاصد کے لیے ان چیزوں کو پروان چڑھایا گیا، سیالکوٹ واقعے نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے، ہجوم نے جس سنگدلی اور بربریت کے ساتھ سری لنکن شہری کی جان لی وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی شہر میں دو بھائیوں کو چوری کے الزام میں پکڑ کر تشدد کر کے مار ڈالا، یہ وہ سماجی بے حسی ہے جس کے خلاف ہم سب نے لڑنا ہے، قصور میں ایک مذہبی حوالے سے ایک واقعے میں میاں بیوی کو بھٹی میں ڈال کر جلا دیا گیا تھا، ان تینوں واقعات کے کیس چلے لیکن کسی ایک مجرم کو بھی سزا نہ مل سکی۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی ذمہ داری قانون سازی کی ہے۔

یاد رہے کہ 3 دسمبر کو سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مقامی فیکٹری کے منیجر پر توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے بہیمانہ تشدد کرکے قتل کیا اور ان کی لاش نذرِ آتش کردی تھی۔

سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عمر سعید ملک نے کہا تھا کہ مقتول کی شناخت پریانتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چونکہ فیکٹری میں رنگ ہونے والا تھا اس لیے مینیجر نے دیواروں سے پوسٹر ہٹانا شروع کر دیے ان میں سے ایک پوسٹر میں کسی مذہبی جلسے میں شرکت کی دعوت تھی جس پر ورکرز نے اعتراض کیا۔

افسوسناک واقعے پر ملک بھر کے سیاسی و سماجی رہنماؤں، اسکالرز اور سول سوسائٹی کے اراکین نے مذمت کی اور ملزمان کو جلد از جلد سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اسے ’ہولناک حملہ‘ قرار دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’یہ پاکستان کے لیے شرمندگی کا دن ہے، میں خود تحقیقات کی نگرانی کر رہا ہو اور اس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، قانون کے دائرہ کار میں تمام ذمہ داران کو سزا دی جائے گی۔‘

پریانتھا کمارا کی میت 6 دسمبر کو ان کے ملک سری لنکا بھیجی گئی تھی۔

واقعے میں ملوث درجنوں ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے جو ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

Related Articles

Back to top button