پاکستانی خبریں

کاروباری برادری سندھ کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے سرمایہ کاری کرے: بلاول

سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس کے زیر اہتمام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صوبے میں پانی اور بجلی سمیت چھ اہم منصوبوں کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

دبئی کے مقامی ہوٹل میں حکومت سندھ کے زیر اہتمام سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ ساتھ شاہی خاندان کے سینئر رکن اور متحدہ عرب امارات کے وزیر شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے بھی شرکت کی۔

کانفرنس متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر تھانی بن احمد الرزیودی بھی شریک ہوئے اور اس موقع پر شرکا نے سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی کامیابی اور سندھ میں کاروبار کے بہترین مواقعوں کی دستیابی کے ساتھ ساتھ دھابے جی اسپیشل اکنامک زون، ٹیکنالوجی پارک، ایجوکیشن سٹی اور ہائیڈروجن پراڈکشن بیس کے موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی۔

تقریب سے خطاب دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ صوبہ سندھ اور پاکستان کاروبار کے لیے تیار ہیں، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تاریخی تعلقات رہے ہیں، میں یہی پلا بڑھا ہوں اور میں نے یہاں کے رہنماؤں کے وژن نے اس ملک کے خوبصورت ساحلوں اور مقامات کو خطے کا مرکز بنا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت مشرق وسطیٰ میں کوئی جدت، کاروباری مواقعوں، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہے تو وہ متحدہ عرب امارات ہے اور دبئی ایکسپو اس کی زندہ مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ 70کی دہائی میں متحدہ عرب امارات کے لوگ پاکستان کا دورہ کرتے تھے اور اب پاکستان کے عوام امارات کا دورہ کرتے ہیں، یہاں کام کرتے ہیں اور سرمایہ لگاتے ہیں اور انہوں نے متحدہ عرب امارات کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آج سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس میں جن مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ان کے ذریعے پانی، کھیل اور توانائی کے منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا جو ترقی کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی فراہم کرے گا جو ہمیشہ سے ہمارے منشور کا حصہ رہا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سندھ میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا ہمارا طویل ٹریک ریکارڈ ہے، ہم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے دریائے سندھ پر ایک بڑا پُل بنایا اور اور اب ہم اپنا ہی ریکارڈ توڑتے ہوئے دریائے سندھ پر نیا سب سے بڑا پُل بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اب کاروباری برادری سندھ کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کرے، ہم اب بھی وفاق سے اپنے وسائل کا مناسب شیئر ملنے کے منتظر ہیں لہٰذا ہماری نگاہیں صوبے میں ترقی کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مرکوز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاروں کے منتظر ہوں اور آج جن چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں ہم ان پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

بلاول نے مفاہمتی یادداشتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ایک کراچی میں کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے حوالے سے یادداشت ہے، آپ سب جانتے ہیں کہ کراچی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بدولت ہمیں امید ہے کہ اس منصوبے سے ہم کراچی اور صوبے میں پانی کے مسئلے کو حل کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کچرے سے توانائی بنانے کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں، کچرہ پاکستان اور کراچی کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ مفاہمتی یادداشت صوبےاور ملک کو پرابھرا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔

ان کا کا کہنا تھا کہ اسٹاٹ اپس، چھوٹے کاروباروں اور انٹرپرائزوں کو فنڈ کی فراہمی کے لیے بھی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ پاکستان اور سندھ میں سرمایہ کاری کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کے ایک ون ونڈو آپریشن بنایا جارہا ہے جس سے انہیں اب اس سلسلے میں درپیش مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے سندھ میں فٹبال اکیڈمی میں سرمایہ کاری پر دبئی کے وزیر کا شکریہ ادا کیا اور کراچی آنے والوں کو پتہ ہے کہ یہ کھیل شہر قائد خصوصاً لیاری کے نوجوانوں میں بہت مقبول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آخری مفاہمتی یادداشت ای گورننس کے حوالے سے ہے جس سے ہمیں صوبے کے سرکاری محکموں میں شفافیت یقینی بنانے اور کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

Related Articles

Back to top button