پاکستانی خبریں

شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف چالان جمع نہ کرانے پر ایف آئی اے کو شوکاز نوٹس جاری

خصوصی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) پنجاب کے ڈائریکٹر زون ون ڈاکٹر رضوان احمد کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پر سے متعلق منی لانڈرنگ اور شوگر اسکینڈل کی انکوائری میں چالان جمع نہ کرانے پر شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

سماعت میں عدالت نے تحقیقاتی رپورٹ جمع کرانے میں مزید تاخیر کی صورت میں ایف آئی اے کی پراسیکیوشن ٹیم کو وارننگ دیتے ہوئے آخری موقع دیا تھا۔

ایک پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ مکمل ہے لیکن اسے جج خصوصی عدالت (سینٹرل-ون) کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ایف آئی اے نے اس سے قبل بینکنگ جرائم کی سماعت کے سلسلے میں خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا تھا۔

خصوصی عدالت کے ڈیوٹی جج (بینک میں جرائم) اسلم گوندل نے پراسیکیوٹر کے بیان پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ ایف آئی اے کا یہ عمل عدالت کے سابقہ حکم کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت تحمل کا مظاہرہ کرتے ہویئ پروسیکیوشن ٹیم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کر رہی۔

جج نے سماعت مختصر وقفے کے لیے ملتوی کر دی کیونکہ پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ اگر فائل کو کچھ دیر انتظار میں رکھا گیا تو سیکشن 173 سی آر پی سی کے تحت تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے گی۔

تاہم جب جج نے دوبارہ سماعت شروع کی تو ایف آئی اے کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا۔

ڈیوٹی جج کی جانب سے جاری کردہ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’فائل کو دوبارہ اٹھا لیا گیا ہے لیکن انتظار کے باوجود استغاثہ کی جانب سے کوئی پیش ہوا نہ ہی سی آر پی سی کی دفعہ 173 کے تحت کوئی رپورٹ پیش کی گئی جبکہ چالان جمع نہ کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں پیش کی گئی۔

جج نے ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب زون ون لاہور کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہدایت کے باوجود پہلی کال پر چالان کیوں پیش نہیں کیا گیا اور پراسیکیوٹرز بعد میں عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوئے۔

ڈیوٹی جج نے سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ضمانت میں اگلی سماعت تک توسیع کردی۔

علاوہ ازیں خصوصی عدالت (سنٹرل ون) کے جج اعجاز حسن اعوان نے بھی ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ اپنی عدالت میں پیش کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

Related Articles

Back to top button