پاکستانی خبریں

وفاقی وزیر سے اختلافات کے باعث سیکرٹری پیٹرولیم کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم ڈویژن سیکریٹری ڈاکٹر ارشد محمود کو ہٹا کر اس عہدے کا چارج سیکریٹری پاور ڈویژن چارج علی رضا بھٹہ کو سونپ دیا گیا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے بی ایس 22 کے افسر ڈاکٹر ارشد محمود، جو اس وقت سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن کے عہدے پر تعینات ہیں، کو تبدیل کرکے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر ارشد محمود کو کوئی پوسٹنگ نہیں دی گئی جبکہ ان کی خدمات آئندہ احکامات تک اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اختیار میں رہیں گی۔

عارضی انتظام کے طور پرپیٹرولیم ڈویژن کی دیکھ بھال ایک اور بیوروکریٹ کرے گا۔

علی رضا بھٹہ کے اضافی چارج کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک اور نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے بی ایس 22 کے افسر علی رضا بھٹہ جو اس وقت سیکریٹری پاور ڈویژن کے عہدے پر تعینات ہیں، انہیں ایک مدت کے لیے سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن کے عہدے کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ انہیں اضافی جارج تین ماہ یا باقاعدہ عہدے کی پوسٹنگ تک ذمہ داری ادا کرنی ہیں۔

اگرچہ پیٹرولیم سیکریٹری کی ‘اچانک’ برطرفی کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، توانائی سے متعلق تمام چیلنجزکے لیے حل کے لیے ایک کاروباری گروپ کی نشاندہی پر وزارت توانائی کو تنقید کا سامنا رہا ہے۔

ان چیلنجز میں ایل پی جی کی پیداوار، ایل این جی کی سپلائی کے لیے پائپ لائنز، موجودہ ایل این جی ٹرمینلز کے اندر اضافی انتظامات کی سہولت وغیرہ شامل ہیں۔

یہ کہا جاتا ہے کہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) سیکٹر جیسے چھوٹے گروپوں کو اپنی درآمدات کے بجائے وزارت توانائی کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اس عمل میں ایک بڑا جاپانی کھلاڑی جو کہ اضافی ٹرمینل صلاحیت کے ذریعے مارکیٹ میں مسابقت کا باعث بن سکتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ آخری لمحے میں زبردستی باہر کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سیکرٹری پیٹرولیم کو وفاقی وزیر سے اختلافات ہونے کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا، سیکرٹری پیٹرولیم کو ہٹانے کے چھٹی کے روز اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن سے احکامات جاری کروائے گئے۔ وزیراعظم آفس سے بھی سیکرٹری پیٹرولیم کے اختلافات سامنے آئے تھے۔

Related Articles

Back to top button