پاکستانی خبریں

ون وے کی خلاف ورزی کرنے والے اب ہو جائیں ہوشیار، ہائیکورٹ نے نیا حکم نامہ جاری کر دیا

 لاہور ہائیکورٹ نے شہر میں ون وے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد پر2 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔

جمعہ کو لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ پر قابو پانے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کی جانب سے شیراز ذکا ایڈووکیٹ ، سلیمان خان نیازی ایڈووکیٹ اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔جوڈیشل واٹراینڈ انوائرمنٹ کیمشن نے اسموگ کے خاتمہ کے لیے نئی سفارشات سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔
رپورٹ میں لاہور شہر میں ٹریفک کی روانگی برقراررکھنے سے متعلق سفارشات پیش کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر میں غیر ضروری اور عارضی پارکنگ کو فوری ختم کیاجائے اورغیر قانونی پارکنگ والوں کے خلاف جرمانے کیے جائیں۔
سفارش کی گئی ہے کہ شہر میں روزانہ کی بنیاد پر اینٹی انکروچمنٹ آپریشن اورفٹ پاتھوں پر رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں کی جائیں۔ سڑک پر پیدل کراس کرنے والوں کواوور ہیڈ برج استعمال کرنے کی آگاہی دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کےخلاف بلاامتیازکاروائیاں کرنے اور ٹریفک قوانین کی خلاف وزری کرنے والوں کے خلاف جرمانوں کو بڑھانے بھی زوردیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ڈرائیونگ لائسنس لازمی قراردینےاور کم عمری میں ڈرائیونگ کرنےوالوں کے خلاف کاروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سگنل فری روڈ ہونے سے مشکلات پیدا ہورہی ہے۔ ٹریفک پولیس کے نمبر 15 پر زیادہ تر کالیں ٹریفک جام اور مظاہروں کی آتی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے چیف ٹریفک پولیس آفیسر کا تبادلہ کرنے سے روک دیا اور ان کے کام کی تعریف کی۔ لاہور ہائیکورٹ نے شہر میں ون وے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد پر2 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے 93 خطوط لکھ چکا ہوں لیکن کچھ نہیں ہوا۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ لاہورجیل روڈ کا کچھ کرنا ہوگا کیوں کہ سگنل فری ہونے سے خرابی ہوئی ہے اور لوگ سڑکیں کراس نہیں کرسکتے۔
عدالت نے مئیر لاہورکرنل (ریٹائرڈ) مبشر کو پیر کے روز طلب کرلیا ہے

Related Articles

Back to top button