پاکستانی خبریں

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی دوبارہ نظر بند

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو ان کے گھر میں دوبارہ نظر بند کردیا گیا۔

یہ اطلاع انہوں نے ٹوئٹر پر کی گئی ٹوئٹس میں دی، جس کے ساتھ مقفل دروازوں اور سیکیورٹی انتظامات کی تصاویر بھی شیئر کیں۔

کشمیری رہنما کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ ان کے میڈیا ایڈوائزر اور ایک اور ساتھی کو بھی گھروں میں نظر بند کردیا گیا ہے۔

محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اور پھر ان کے اہلِ خانہ کو باعزت تدفین کا حق نہ دے کر بھارتی حکومت غیر انسانیت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر گئی ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ شروع سے ان کا بیانیہ احتساب سے فرار کے لیے جھوٹ پر بنیاد کرتا ہے۔

اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے بھارتی حکام کے حوالے سے مزید کہا کہ وہ اپنے اقدامات پر جوابدہ نہیں ہونا چاہتے اس لیے جو آوازیں اس قسم کی ناانصافی اور ظلم کے خلاف بلند ہو رہی ہیں انہیں دبایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ پیر کی رات سری نگر میں بھارتی فوج نے چھاپے کے دوران دو مبینہ حریت پسندوں سمیت 5 افراد کو قتل کردیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شہری بھارتی فوج اور مبینہ حریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تاہم عینی شاہدین اور شہریوں کے اہل خانہ نے بتایا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔

بعد ازاں بھارتی حکام نے سال 2020 سے شروع کی جانے والی پالیسی کے تحت لاشوں کو ایک دور افتادہ شمال مغربی گاؤں میں خفیہ طور پر دفن کر دیا تھا۔

جس پر گزشتہ روز ان مقتولین کے درجنوں رشتہ داروں نے مرکزی شہر میں احتجاج کیا تھا اور ان کی تدفین کے لیے حکام سے لاشیں واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان شہریوں کی شناخت تاجر محمد الطاف بھٹ اور ڈینٹل سرجن کے ساتھ ساتھ ریئل اسٹیٹ ڈیلر مدثر کے ناموں سے ہوئی تھی جس میں الطاف بھٹ کی بیٹی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہوئی جس میں لڑکی نے ان لمحات کے بارے میں بتایا جب انہیں ان کے والد کے قتل کی اطلاع ملی تھی۔

رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ کم از کم مرنے والوں کا احترام کیا جائے اور انہیں ان کے پیاروں کی باوقار طریقے سے تدفین کی اجازت دی جائے۔

یہاں یہ بات یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کےبعد محبوبہ مفتی سمیت وادی کے متعدد سیاسی رہنماؤں کو بھارتی حکومت نے حراست میں لے لیا تھا۔

چنانچہ محبوبہ مفتی 14 ماہ تک اپنے گھر میں نظر بند رہی تھیں جس کے بعد بھارتی حکام نے انہیں اکتوبر 2020 میں رہا کردیا تھا، محبوبہ مفتی کا شمار ان سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جو بھارت کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button