پاکستانی خبریں

پاکستان کی مقبوضہ کشمیر میں مزید 5 کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت

پاکستان نے بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے کولگام میں 5 کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق بھارتی قابض افواج نے یکم اکتوبر سے اب تک جعلی مقابلوں یا نام نہاد ’سرچ آپریشنز‘ میں کم از کم 30 کشمیریوں کو جاں بحق کردیا ہے۔

کولگام میں پیش آنے والے واقعے پر دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بے شرمی سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ’ہندوتوا‘ سے متاثر انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)۔آر ایس ایس گٹھ جوڑ کے ذریعے کیے جانے والے ناقابل بیان تشدد کو بے نقاب کرتا ہے جس نے مقبوضہ وادی کو ایک آتش فشاں میں تبدیل کر دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین، بچے اور بزرگوں سمیت کوئی معصوم شہری بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے کئی واقعات میں جاں بحق کشمیریوں کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے نہ کرنے کا غیر انسانی اور ظالمانہ عمل بھی قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری خاندانوں کو مقتولین کی مناسب تدفین کے حق سے محروم کرکے ان کے بنیادی حقوق غصب کرنا بھارتی حکومت کے اخلاقی دیوالیہ پن کو مزید بے نقاب کرتا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیری شہریوں کی ہلاکتیں ان ناقابل تردید حقائق کی بھی توثیق کرتی ہیں جس کے بارے میں پاکستان کی جانب سے حال ہی میں ایک جامع ڈوزیئر فراہم کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا فوری نوٹس لے اور معصوم کشمیریوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے نئی دہلی کو جوابدہ ٹھہرائے۔

خیال رہے کہ 15 نومبر کی رات کو سری نگر میں بھارتی فوج کے چھاپے میں دو مبینہ حریت پسندوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

ہندوستانی حکام نے بعد میں 2020 میں شروع ہونے والی پالیسی کے تحت لاشوں کو ایک دور افتادہ شمال مغربی گاؤں میں خفیہ طور پر دفن کر دیا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق دو شہریوں کے درجنوں رشتہ داروں نے مرکزی شہر میں احتجاج کیا تھا اور حکام سے لاشیں واپس کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ تدفین کر سکیں۔

2020 میں اس پالیسی کے آغاز سے اب تک حکام سیکڑوں مبینہ حریت پسندوں اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں دور دراز علاقوں میں بے نام و نشان قبروں میں دفن کر چکے ہیں اور ان کے اہل خانہ کو تدفین کے لیے لاش دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button