پاکستانی خبریں

اگر پی ٹی آئی حکومت کو سمندر برد نہیں کیا تو ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے: مولانا فضل الرحمان

سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اگر اس حکومت کو سمندر برد نہیں کیا تو ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے، پی ٹی آئی حکومت چوری کے ووٹوں سے آئی ہے۔

کراچی میں مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف ریگل چوک پر احتجاجی مظاہرین سے خطاب میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ غربت سے تنگ عوام نے پارلیمنٹ لاجز کے سامنے بچے فروخت کے لیے رکھے ہوئےہیں، معیشت مستحکم ہونے سے ہی قومیں مضبوط ہوتی ہیں، تاریخ گواہ ہے جہاں اقتصادی بحران آیا وہاں بغاوت نے جنم لیا، جو حکومت قوم کی رسوائی کا سبب بنے اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں، ہم نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ یہ حکومت ناجائز اور نا اہل ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نا اہل حکمران بھیک مانگ کر وقت گزار رہے ہیں، دنیا بھر میں 22 کروڑ عوام کی رسوائی ہورہی ہے، قوم کی رسوائی کا سبب بننے والوں کو حکمرانی کا حق حاصل نہیں۔

سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ یہ حکومت ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے، ملک میں مزدور، دکاندار اور ملازمت پیشہ لوگ حکومت سے مایوس ہوچکےہیں، پی ڈی ایم قوم کی آواز ہے، ہم ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، پی ڈی ایم ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتی ہے، اس حکومت کو سمندر برد نہ کیا تو ملک کی سلامتی کا سوال پیدا ہوگا۔

احتجاجی جلسے سے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ حکومت عوام کے ووٹ سے نہیں چوری شدہ الیکشن کےنتیجے میں برسراقتدار آئی، جس ملک میں الیکشن چوری ہوں وہاں مہنگائی ہوتی ہے، 30 روپے کلو والا آٹا 80 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے، بجلی کی قیمت میں تین گنا اضافہ کردیا گیا ہے، اور کل ہی گیس کی لوڈ شیڈنگ کی خبر عوام کو سنائی گئی ہے۔ مہنگائی اور ملک کی مشکلات کا حل آئین کے مطابق ملک چلانے میں ہے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کوئی پاکستان کی بات سننےکو تیار نہیں، عوام اس نظام کو قبول کرنے کو تیار نہیں، فوری اور شفاف الیکشن کے سوا اب کوئی حل نہیں ہے۔ پی ڈی ایم اقتدار کی بات نہیں کرتی، تمام جماعتیں آئین کی بالادستی کے یک نکاتی ایجنڈے پر ہیں۔

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم ڈی چوک پر نہیں بنائی، اور نہ ہی ہم نے اسے اس لیے بنایا کہ ہم فارغ تھے، ہمیں اپنی عزت پیاری تھی۔

Related Articles

Back to top button