پاکستانی خبریں

نیب چیئرمین کو ہٹانے کا اختیار صدر مملکت سے واپس لینے کا فیصلہ

قومی احتساب بیورو (نیب) چیئرمین کو ہٹانے کا اختیار صدر مملکت سےواپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت بذریعہ پارلیمنٹ صدر سے چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار واپس لے گی۔

حکومت نے یکم نومبر کو جاری تیسرے نیب ترمیمی آرڈیننس میں چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کو دیا تھا۔

تاہم اب حکومت نے اپنے ہی لائے آرڈیننس میں صدر کو دیا گيا چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار واپس لینے کا فیصلہ کرلیا کیا ہے۔ تیسرا نیب ترمیمی آرڈيننس اب پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور صدر سے چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار پارلیمنٹ کے ذریعے واپس لیا جائے گا۔

تیسرے نیب ترمیمی آرڈیننس میں چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈيشل کونسل سے لے کر صدر مملکت کو دے دیا گیا تھا ، اب یہ اختیار صدر مملکت سے واپس لے کر دوبارہ سپریم جوڈيشل کونسل کو ہی دیے جانے کا امکان ہے۔

علاوہ ازیں نیب کے تیسرے ترمیمی آرڈیننس کے آنے کے بعد نئے چئیرمین نیب کی تقرری کا عمل نومبر کے دوسرے ہفتے سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے چیئرمین نیب کے لیے صدر مملکت پہلے وزیراعظم سے چیئرمین نیب کے لیے بذریعہ خط نام طلب کریں گے۔

صدر مملکت وزیراعظم سے موصول نام قائد حزب اختلاف کوبھیجیں گے، ناموں پر اتفاق نہ ہوا تو تعیناتی کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا۔

Related Articles

Back to top button