پاکستانی خبریں

کسی سفارتی عملے کو نکالنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں: شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب فرانسیسی سفارتکار کی ملک سے بے دخلی کے معاملے میں حکومت اور 22 کروڑ کی مجبوریاں ہیں، ہم بین الاقوامی دباؤ میں آجائیں گے، کسی سفارتخانے کو بند کرنے یا سفارتی عملے کو نکالنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم ٹی ایل پی کے ساتھ فورتھ شیڈول سمیت دیگر مسائل پر بات کرچکے ہیں جبکہ فرانسیسی سفارتکار کا انخلا ہمارے لیے مشکلات کا باعث ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے راستے کھول دینے کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ انہوں نے آج کے دن راستے کھول دینے کا وعدہ کیا تھا۔

شیخ رشید نے کہا کہ فرانسیسی سفارتکار کی ملک سے بے دخلی کے علاوہ کوئی دوسرے تحفظات نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آج 8 بجے ٹی ایل پی کی قیادت سے رابطہ کروں گا، فرانسیسی سفارتکار کی بے دخلی کا معاملہ کئی مسائل پیدا کرے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہا کہ دیگر مسائل قابل ذکر نہیں ہیں لیکن سفارتکار کی بے دخلی سے یورپی ممالک کے ساتھ کیے مسائل جنم لیں گے جبکہ ہم معاشی اور دیگر بحران کا سامنا کررہے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ اگرچہ ٹی ایل پی سے منگل تک بات ہوئی تھی لیکن میں آج رات 8 بجے اور کل صبح 10 بجے بھی رابطہ کروں گا اور اُمید رکھتا ہوں کہ وہ دونوں طرف سڑکوں کو کھول دیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کا یہ چھٹا دھرنا ہے، آج 8 بجے ٹی ایل پی سے بات کرنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان سے رابطہ کروں گا اور تمام مسائل پر اتفاق ہے جبکہ ٹی ایل پی نے فرانسیسی سفارتکار کی بے دخلی کے لیے 2 نومبر دی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ فرانسیسی سفارتکار کی بے دخلی کے معاملے میں حکومت اور 22 کروڑ عوام کی مجبوریاں ہیں اور یہ عالمی دباؤ کا باعث بنے گا۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں تنظیم کے سربراہ سعد رضوی اور ان کی شوریٰ سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ پاکستان اور اس کے عوام کے حوالے سے بہتر سوچیں گیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے تو اپوزیشن اس کو سپورٹ نہیں کرے گی اور پھر یہ معاملہ اٹھ جائے گا اس لیے میری ٹی ایل پی سے درخواست ہے کہ وہ اس بارے میں سوچیں۔

Related Articles

Back to top button