پاکستانی خبریں

الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا شیڈول جاری کر دیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خیبر پختونخوا (کے پی) میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا شیڈول جاری کردیا۔

ای سی پی سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ 19 دسمبر کو ہو گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا میں پہلے مرحلے میں پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ، ڈی آئی خان، لکی مروت، مالاکنڈ، باجوڑ، مردان، صوابی، کرک، بنوں، ٹانک، ہری پور، خیبر، چارسدہ، ہنگو اور مہمند میں انتخابات ہوں گے۔

ای سی پی نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کاغذات نامزدگی کے لیے یکم نومبر کو نوٹس جاری کریں گے، جس کے بعد امیدوار 4 تا 8 نومبر تک کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔

ریٹرننگ افسران کاغذات جمع کرانے والے امیدواروں کی فہرستیں 9 نومبر کو جاری کریں گے، جس کے بعد 10 سے 12 نومبر کے دوران کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کریں گے۔

ای سی پی نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار 13 سے 16 نومبر تک اسکروٹنی سے متعلق اپیلیں دائر کر سکیں گے اور ایپیلٹ ٹریبونلز 19 نومبر تک اپیلوں پر فیصلے کریں گے۔

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے شیڈول کے مطابق امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرستیں 20 نومبر کو جاری کی جائیں گی جبکہ 22 نومبر تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ نامزد امیدواروں کو 23 نومبر کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔

ای سی پی نے کہا کہ 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کے بعد پہلے مرحلے کے نتائج کا اعلان 24 دسمبر تک کر دیا جائے گا۔

شیڈول کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے تمام حکام کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی کی ہدایت کردی۔

ای سی پی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے عہدیدار الیکشن پر اثر انداز ہونے سے گریز کریں۔

قبل ازیں 22 اکتوبر کو ای سی پی نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے لیے 19 دسمبر اور 16 جنوری کی تاریخیں مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کے جاری کردہ تفصیلی حکم نامے میں کمیشن نے صوبائی حکومت، چیف سیکریٹری، سیکریٹری بلدیات کو تمام تر ضروری انتظامات کرنے اور صوبے میں آزادانہ و شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کے نمائندوں کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے پر زور دیا تھا۔

ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ اس حکم کے تحت گاؤں کونسلز، محلہ کونسلز اور تحصیل کونسلز کے لیے بلدیاتی انتخابات پہلے مرحلے میں 17 اضلاع میں اور دوسرے مرحلے میں باقی 18 اضلاع میں ہوں گے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ برس 25 نومبر کو خیبرپختونخوا میں مقامی حکومت کی عدم موجودگی کو قانون کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ نہ ہی صوبے کے وزیراعلیٰ اور نہ ہی ان کی کابینہ کے اراکین خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 اور آئین کی پاسداری کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے میونسپل کارپوریشن کے ایک منتظم کی درخواست پر جاری کردہ چار صفحات پر مشتمل ایک حکم نامے میں قرار دیا تھا کہ آئین اور قانون کی پاسداری کرنا ‘اختیاری نہیں بلکہ واجب ہے’۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ ‘ایکٹ اور آئین کی اس سنگین خلاف ورزی کو ختم ہونا چاہیے اور اس ایکٹ اور آئین کی پاسداری کی جانی چاہیے’۔

دوران سماعت عدالت نے کہا تھا کہ 28 اگست 2019 کے بعد سے صوبہ خیبر پختونخوا کو منتخب عوامی نمائندوں سے محروم کیا ہوا ہے اور حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اس آرڈر میں یہ بات شامل ہوگئی ہے کہ ’لوکل کونسل الیکشن‘ کے عنوان سے 47 سیکشنز پر مشتمل ایکٹ کے باب پنجم کو بے کار قرار دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم میں کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین سمیت تمام آئینی عہدے دار اپنے دفاتر میں داخلے سے قبل حلف اٹھائیں، حکم نامے میں مزید وضاحت کی گئی تھی کہ حلف ان سے آئین اور قانون کے تحت کام کرنے کا تقاضا کرتا ہے، یہ مشاہدہ کیا گیا کہ بدقسمتی سے نہ ہی خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور نہ ہی صوبائی کابینہ کے اراکین ایکٹ اور آئین کی پاسداری کر رہے ہیں کیونکہ بلدیاتی انتخابات نہیں ہورہے تھے اور لوگوں کو جمہوریت سے محروم رکھا جارہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ فیصلے کی نقول چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی کابینہ کے ہر رکن کو بھی بھیجی جائے تاکہ وہ اس ایکٹ اور ان کے متعلقہ قانونی اور آئینی فرائض کی تعمیل کو یقینی بنائیں۔

بعد ازاں 26 مارچ 2021 کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بلدیاتی انتحابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کے سیکشن 3 کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

Related Articles

Back to top button