پاکستانی خبریں

الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو 27 اکتوبر کو طلب کرلیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 27 اکتوبر کو پیش ہوں اور ان کے اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کے خلاف نازیبا ریمارکس کی وضاحت کریں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کو ای سی پی اور سی ای سی کے خلاف ریمارکس کی وضاحت کے لیے تین ہفتوں کی مہلت دی گئی تھی جو 19 اکتوبر کو ختم ہو گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ فواد چودھری نے تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مزید تین ہفتوں کی درخواست دائر کی تھی تاہم کمیشن نے انہیں مزید وقت دینے سے انکار کردیا۔

ای سی پی پہلے ہی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کو شوکاز نوٹس جاری کرچکا ہے اور ان سے 26 اکتوبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کو کہا ہے تاکہ وہ کمیشن اور سی ای سی کے خلاف اپنے ریمارکس کی وضاحت کر سکیں۔

کمیشن نے 16 ستمبر کو دونوں وزرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر ای سی پی اور سی ای سی دونوں پر لگائے گئے غلط کاموں کے الزامات کے بارے میں ثبوت فراہم کریں۔

23 ستمبر کو فواد چوہدری نے جواب جمع کرانے کے لیے 6 ہفتے مانگے تھے تاہم انہیں تین ہفتے دیے گئے تھے جو 19 اکتوبر کو ختم ہو گئے تھے۔

معاملے کا پس منظر

واضح رہے کہ قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کے دوران اعظم سواتی نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی میں ملوث رہا ہے اور ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے۔

انہوں نے کمیٹی میں مجوزہ ترامیم پر ووٹنگ کے عمل سے قبل الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کمیشن نے رشوت لے کر انتخابات میں دھاندلی کی۔

اعظم سواتی کے ان ریمارکس کے بعد الیکشن کمیشن کے اراکین اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے تھے۔

اسی دن شام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے آلہ کار کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو الیکشن کمیشن چھوڑ کر الیکشن لڑیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اگر ٹیکنالوجی پر کوئی اعتراض ہے یا کسی چیز میں وہ بہتری لانا چاہتے ہیں تو وہ بتائیں، اگر چیف الیکشن کمشنر نے سیاست کرنی ہے جس کا انہیں آئینی حق حاصل ہے، تو ان کو دعوت دوں گا کہ الیکشن کمیشن کو چھوڑیں اور خود الیکشن میں امیدوار آ جائیں، پارلیمنٹ میں آ کر اپنا کردار ادا کریں ۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نواز شریف وغیرہ سے قریبی رابطے میں رہے ہیں اور ان کی ذاتی ہمدردی بھی ہو سکتی ہے لیکن اگر الیکشن کمیشن سمیت ہر ادارے کو پارلیمنٹ کو مان کر چلنا ہو گا، کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پارلیمان کو نیچا دکھائے اور کہے کہ ہم پارلیمنٹ کو نہیں مانتے بلکہ اپنا نظام بنائیں گے۔

مذکورہ بیان پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے الیکشن کمیشن سمیت متعلقہ اداروں اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ وزیر ریلوے اعظم سواتی کی دھمکیوں کا نوٹس لیں اور اس معاملے پر ان کے خلاف کارروائی کریں۔

چنانچہ 14 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن پر عائد کیے گئے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو شوکار نوٹس جاری کرنے اور الزامات کے ثبوت طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Related Articles

Back to top button