پاکستانی خبریں

پارٹی میں انتشار نہیں چاہتا اور پارٹی الیکشن تک پارٹی کا صدر رہوں گا: جام کمال خان

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی نے کہا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے باقاعدہ استعفیٰ نہیں دیا، پارٹی میں انتشار نہیں چاہتا اور پارٹی الیکشن تک پارٹی کا صدر رہوں گا۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اگر پارٹی مجھ پر اتفاق نہیں کرتی ہے تو میں مستعفی ہو جاؤں گا اور اکتوبر نومبر میں ہمارا پہلے سے ہی پارٹی الیکشن کرانے کا ارادہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کئی دوستوں نے میری اس خواہش کو پسند نہیں کیا اور مجھ سے درخواست کی کہ ہم نے آپ کو صدر بنایا ہے اور جب تک ہمارا مشترکہ فیصلہ نہیں ہو گا، اس وقت تک آپ انفرادی طور پر ایسے فیصلے نہ کریں اور یہ ہماری پارٹی کے یکجا ہونے کی علامت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آج پارٹی کا صدر ہوں اور کل الیکشن کے بعد جو بھی صدر منتخب ہو گا تو ہم اس کے ساتھ انہی کرسیوں پر بیٹھیں گے اور جو بھی پارٹی کا فیصلہ ہو گا میں اس کا پابند ہوں۔

جام کمال خان نے کہا کہ آج پریس کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ میں ساتھیوں کی درخواست پر بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لوں۔

ان کا کہنا تھاکہ میں پارٹی سے استعفیٰ نہیں دے رہا اور نہ دوں گا، میں نہیں چاہتا پارٹی کے میں انتشار پھیلے اور پارٹی الیکشن تک پارٹی کا صدر رہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ اس تمام معاملے میں سوشل میڈیا نے غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا، بلوچستان عوامی پارٹی سے اور کوئی پارٹی نہیں نکل رہی اور مجھے سے ناراض اراکین سب سے زیادہ ملتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے ہر وقت اراکین کو وقت دیا ہے اور آگے مزید بھی میرا دفتر کسی کے لیے بند نہیں ہے، ہماری آخری وقت تک یہی کوشش ہو گی کہ سب کو ساتھ لے کر چلیں، اگر کسی فیصلے سے کچھ لوگ اختلاف رکھتے ہیں تو اکثریت پر ان کو بھی فیصلے میں ضم ہونا ہوتا ہے.

انہوں نے کہا کہ 14 اراکین نے عدم اعتماد ظاہر کیا ہے لیکن ان کو بھی سامنے آنا چاہیے، تحریک عدم اعتماد پیش ہونے پر اکثریت کا فیصلہ قبول ہوجائے گا۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت کی اتحادی جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جام کمال کی حکومت قائم رہے گی۔

حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کرنے والوں میں عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے پارلیمانی لیڈرز شامل ہیں۔

اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر اچکزئی نے کہا کہ یہ صورتحال حکومت کی تشکیل کے دن سے ہمیں درپیش ہے اور اپوزیشن ترقی کے خلاف پہلے دن سے سازش کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ بجٹ کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی اور ہم حکومت کے خلاف ہر غیرجمہوری عمل کا مقابلہ کریں گے۔

اس سے قبل بلوچستان عوامی پارٹی کے چیف آرگنائزر جان جمالی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کےاراکین کی جانب سے وزیراعلی کےخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہے اور بلوچستان عوامی پارٹی کے انتخابات نومبر کے دوسرے ہفتے میں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے، وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے روبرو پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانےکی بات کروں گا اور ہمارے اتحاد کا دائرہ کار وہی رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہمیشہ مخلوط حکومت بنتی ہے جو کمزور ہوتی ہے، خدا کرے وزیر اعلیٰ لوگوں کو منالیں لیکن جیسے اقدامات وہ اب کررہے ہیں اگر پہلے کرتے تو ایسا نہ ہوتا۔

ادھر بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بلوچستان عوامی پارٹی نے رکن صوبائی اسمبلی ظہور بلیدی کو قائم مقام پارٹی صدر مقرر کردیا گیا ہے۔

پارٹی کے جنرل سیکریٹری منظور احمد کاکڑ کی جانب سے اعلامیے میں کہا گیا کہ قائمقام صدر کی تعیناتی پارٹی کے نظم و نسق بہتر طریقے سے چلانے کے لیے کی گئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ جام کمال خان کے استعفے کے بعد پارٹی الیکشن کے لیے پارٹی صدر کا تقرر ضروری ہے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں سیاسی بحران پہلی مرتبہ رواں برس جون میں اس وقت شروع ہوا تھا جب اپوزیشن نے صوبائی اسمبلی کے باہر جام کمال کی قیادت میں کام کرنے والی حکومت کے خلاف کئی دنوں تک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جو ان کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے بجٹ میں فنڈز مختص کرنے کے حوالے سے تھا۔

احتجاج بعد میں شدت اختیار کر گیا تھا اور پولیس نے اس واقعے کے حوالے سے اپوزیشن کے 17 اراکین کو مقدمے میں نامزد کردیا تھا۔

بعد ازاں اپوزیشن نے جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروائی تھی-

گزشتہ ماہ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں جام کمال خان نے بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد ناراض اراکین صوبائی اسمبلی و وزرا اور اتحادیوں نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال عالیانی سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

Related Articles

Back to top button