پاکستانی خبریں

وزیراعلیٰ بلوچستان کو اتحادیوں کے بعد اپوزیشن کا بھی مدد سے انکار

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی کے لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور جمعیت علمائے اسلام(ف) نے بھی وزیراعلیٰ کی مدد سے انکار کر دیا ہے۔

بلوچستان میں سیاسی بحران ختم نہ ہوسکا اور ناراض اراکین اسمبلی اور جام کمال خان کے درمیان رسہ کشی کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے آج جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی-ف) کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری سے ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا اور اس دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نےحکومت بچانے کے لیے جمعیت علمائے اسلام سے مدد کی درخواست کی۔

تاہم یہ ملاقات بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی اور مولانا عبدالغفور حیدری نے وزیر اعلیٰ کو جواب دیا کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔

دوسری جانب جمعہ کی صبح گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے تین ناراض صوبائی وزرا کے استعفے قبول کر لیے.

گورنر سیکریٹریٹ کے مطابق تین وزرا میر ظہور بلیدی، سردار عبدالرحمٰن کھیتران اور اسد بلوچ کے استعفے منظور کیے گیے ہیں۔

اس کے علاوہ متحدہ اپوزیشن کا اجلاس اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈوکیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بلوچستان نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

اپوزیشن کے اجلاس میں مائنس ون فارمولے سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان کے خلاف احتجاج کے طور پر وزرا، پارلیمانی سیکریٹریز اور مشیروں نے استعفے دے دیے تھے۔

وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی جانب سے استعفیٰ دینے سے انکار کے بعد وزرا، مشیروں اور پارلیمانی سیکریٹریوں نے اپنے استعفے پیش کر دیے تھے۔

استعفیٰ دینے والوں میں وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی، وزیر خوراک سردار عبدالرحمٰن کھیتران، وزیر سماجی بہبود میر اسد بلوچ، وزیراعلیٰ کے مشیر اکبر آسکانی اور محمد خان لہری، پارلیمانی سیکریٹری بشریٰ رند، مہ جبین شیران، لالہ راشد بلوچ اور سکندر عمرانی شامل ہیں۔

ناراض گروپ کے زیادہ تر اراکین کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔

اس سے قبل بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ناراض اراکین و اتحادیوں نے جام کمال خان کو عہدے سے سبکدوش ہونے کے لیے 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

تاہم وزیر اعلیٰ نے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ناراض رہنماؤں کے مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

Related Articles

Back to top button