پاکستانی خبریں

وزیراعظم نے پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کردیا

وزیراعظم عمران خان نے پنڈورا پیپرز کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کردیا۔  وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اینٹی کرپشن تحقیقات کریں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعظم انسپکشن کمیشن کے تحت ایک اعلیٰ سطح کا سیل قائم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کا سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا۔

 ان کا کہنا تھاکہ پنڈورا لیکس سے متعلق حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں ‏پنڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنڈورا لیکس کی تحقیقات قوم کے سامنے رکھی جائیں گی اور اعلیٰ سطح کا سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اینٹی کرپشن تحقیقات کریں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیر قانون کو ٹی او آرز بنانے کاہدف دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں۔

 پنڈورا پیپرز: شوکت ترین، فیصل واوڈا، شرجیل میمن، مونس الٰہی اور علی ڈار سمیت 700 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آگئیں

خیال رہے کہ پنڈورا پیپرز میں 700 سے زائد پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔

پنڈورا پیپرز میں وزیرخزانہ شوکت ترین کی آف شور کمپنی جبکہ وفاقی وزیر مونس الٰہی اور سینیٹر فیصل واوڈا کی آف شور کمپنیاں سامنے آئیں۔

تحقیقات میں پنجاب کے سینیئر وزیر عبدالعلیم خان کی آف شور کمپنی سامنے آئی جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار کے بیٹے کی آف شور کمپنی بھی پنڈورا پیپرز میں شامل ہے۔

پنڈورا پیپرز میں پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن کی آف شور کمپنی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیرصنعت خسرو بختیارکے اہل خانہ کی آف شورکمپنی بھی پنڈورا پیپرزمیں سامنے آئی ہے۔

پنڈورا پیپرزمیں کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران،بینکاروں، کاروباری شخصیات اور میڈیا مالکان کی آف شورکمپنیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

گزشتہ روز ہی وزیراعظم عمران خان نے پنڈورا پیپرز میں شامل پاکستانیوں سے تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

Related Articles

Back to top button