پاکستانی خبریں

شہباز شریف نے ملک احمد خان کو اپنا ترجمان مقرر کردیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جماعت نے صدر کے ‘قومی حکومت’ سے متعلق بیان پر وضاحت کے ایک روز بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنا ترجمان مقرر کرلیا جس کے بعد پارٹی میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ شہباز شریف اس طرح معاملے پر ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔

شہباز شریف نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ ‘مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ملک احمد خان میرے ترجمان ہوں گے، وہ میرے دور میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے فرائض انجام دے چکے ہیں اور انہوں نے بہترین خدمات انجام دیں’۔

جماعت کے رکن نے ڈان کو بتایا کہ شہباز شریف نے اس شخص کا انتخاب کیا ہے جو ان کے بیٹوں حمزہ اور سلیمان کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کی وضاحت کے ‘شرمناک’ واقعے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے پاس ‘خاندان کا اعتماد یافتہ’ شخص ہونا چاہیے جو میڈیا میں ان کی نمائندگی کرے۔

گزشتہ عام انتخابات میں شکست کے بعد سے ملک احمد خان، پارٹی کی میڈیا ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘مسلم لیگ (ن) میں ملک احمد خان کو شہباز شریف کے کیمپ کا حصہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے باس (شہباز شریف) کا دفاع کرتے ہیں’۔

شہباز شریف نے اپنے تین روزہ دورہ کراچی کے آخری روز صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا تھا کہ خارجہ پالیسی سے لے کر معیشت اور سیاسی غیر یقینی کی صورتحال سے لے کر حقیقی جمہوری قوتوں کے لیے تیزی سے کم ہوتی جگہ تک پھیلے قومی مسائل کا حل متفقہ قومی حکومت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حقیقت میں اگر میں آپ کو بتاؤں تو بعض دفعہ جب میں بڑے بڑے مسائل اور چیلنجز کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ انہیں حل کرنا کسی ایک جماعت کے بس کی بات نہیں ہے، اس کے لیے مشترکہ دانش اور کوششوں کی ضرورت ہے، اس لیے میرے خیال میں ان چیلنجز کو حل کرنے کے لیے قومی حکومت قائم ہونی چاہیے’۔

اگلے روز مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے بیان جاری کیا، جس میں ‘واضح’ کیا گیا کہ پارٹی صدر نے کراچی میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران اپنی ‘ذاتی’ رائے کی بنیاد پر ‘پاسنگ ریمارکس’ دیے۔

انہوں نے کہا کہ ‘مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ اگر عوام نے اگلے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کو ایک مرتبہ پھر حکمرانی کا موقع دیا تو ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو عمران خان کی حکومت کی جانب سے اپنے تباہ کن دور میں کھڑے کیے گئے بڑے بڑے تنازعات کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی دعوت دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے’۔

ترجمان کے بیان کے بعد پارٹی میں یہ بحث چھڑ گئی کہ پارٹی کے صدر کو شرمندہ کرنے کے لیے کیسے وضاحتی بیان جاری کردیا گیا۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے سینیئر رہنما نے ڈان کو بتایا کہ ‘یہ واضح ہے کہ شہباز شریف کے قومی حکومت کے خیال کو پارٹی کے قائد نواز شریف نے پسند نہیں کیا اور شاید اپنے بھائی کو اعتماد میں لینے کے بعد وضاحت جاری کرنے کا حکم دیا’۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے صدر کے بیان کو ان کی ‘ذاتی رائے’ قرار دینے سے انہیں شرمندگی ہوئی اور اس اقدام نے انہیں پارٹی میں ایک عجیب پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔

سینیئر رہنما نے کہا کہ نواز شریف کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے بھائی شہباز شریف سے ان کے قومی حکومت کے بیان پر بذات خود وضاحت جاری کرنے کا کہتے جس سے ان کی شرمندگی نہ ہوتی، جبکہ یہ عمل کہا تھا جو شاید انہیں شرمندگی سے بچا سکتا تھا اور یہ عمل دیگر جماعتوں میں غیر معمولی نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنما کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے ایک بار پھر واضح ہوتا ہے کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز، شہباز شریف کی ہمیشہ اس وقت سرزنش کریں گے جب بھی وہ اپنے بڑے بھائی کی منظوری کے بغیر پارٹی لائن پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

مریم نواز نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کے والد نے کبھی ‘قومی حکومت کے تصور کی حمایت نہیں کی لیکن مذاکرات اور مفاہمت کی تجویز پیش کی ہے’۔

نواز شریف نے پہلے بھی شہباز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سمیت اداروں کے درمیان ‘گرینڈ مذاکرات’ کی تجویز میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔

شہباز شریف کو ان کا بیان واپس لینے کے بعد اپنا ترجمان مقرر کرنے کی ضرورت پیش آنے کے متعلق سوال پر مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ‘بعض میڈیا اداروں کی جانب سے توڑ مروڑ کر بیان کی اشاعت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کو وضاحت جاری کرنے پر اکسایا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میڈیا کو تمام بیانات پارٹی کے صدر کی ہدایت پر جاری کیے جاتے ہیں اور ان کو آگے پہنچانے کی ذمہ داری پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات کی ہوتی ہے۔

انہوں نے ملک احمد خان کو پارٹی کی میڈیا ٹیم میں شمولیت پر خوش آمدید بھی کہا۔

Related Articles

Back to top button