پاکستانی خبریں

پی ڈی ایم نے حکومت مخالف جلسوں کا اعلان کر دیا

پی ڈی ایم نے وکلا تحریک کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کے خلاف جلسوں اور مارچ کا اعلان کردیا، فیصلہ کن تحریک کے لیے ستمبر کے اوائل میں پی ڈی ایم کا اجلاس ہوگا جس میں ملک گیر جلسوں اور کاروان مارچ کا شیڈول جاری کیا جائے گا۔

پی ڈی ایم کا ایک اہم اجلاس سربراہ مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں حکومت مخالف تحاریک، لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے آپشنز پر غور کیا گیا۔

نواز شریف، مریم نواز اور اسحاق ڈار نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جب کہ بی این پی کے نواب اختر مینگل اجلاس میں شریک نہیں۔

اجلاس میں اتوار کو پی ڈی ایم کے جلسے اور حکومت کے خلاف حکمت عملی کی تیاری پر غور کیا گیا۔ بی این پی اور نیشنل پارٹی کی جانب سے تجویز دی گئی کہ اپوزیشن اتحاد کو اب جلسے جلوسوں اور اجلاسوں سے آگے بڑھنا ہوگا، دونوں جماعتوں نے تجویز دی کہ پہلے مرحلے میں بلوچستان اسمبلی سے اپوزیشن استعفے دے دے، اجلاس کے دوران نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔

اجلاس میں شریک بی این پی اور نیشنل پارٹی کا موقف تھا کہ اب جلسے جلوسوں اور اجلاسوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت اور ملک میں مہنگائی کی لہر، عوامی مسائل پر جارحانہ رویہ اختیار کیا اور کہا کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کو اسمبلیوں سے استعفی دیکر حکمرانوں کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلانا ہوگی۔

اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے وکلا تحریک کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک کے لیے ستمبر کے اوائل میں پی ڈی ایم کا اجلاس ہوگا جس میں پی ڈی ایم کے ملک گیر جلسوں اور کاروان مارچ کا شیڈول جاری کریں گے اور پی ڈی ایم تین سالہ حکومتی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے جو اتھارٹی بنانے جا رہی ہے اسے مسترد کرتے ہیں، پی ڈی ایم کے اراکین اسمبلی میڈیا کے لیے بھرپور احتجاج کریں گے، میڈیا کی آزادی کو سلب نہیں کرنے دیں گے ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا ہے، میڈیا کی پابندیوں سے متعلق ہم سیاہ قانون کوتسلیم نہیں کرتے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پوری دنیا نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کو مسترد کردیا، الیکشن کمیشن نے بھی اعتراض کیا ہے یہ حکومت خود دھاندلی کی پیداوار ہے، انتخابی اصلاحات کا ان کو حق نہیں، دراصل یہ الیکشن چوری کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں تاریخی مہنگائی غریب کے لیے ناقابل برداشت ہوچکی ہے، ہم غریب لوگوں کی آواز بنیں گے، پی ڈی ایم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں جلسوں کا جال بچھا دیں گے، سڑکوں پر روڈ کارواں شروع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم وکلاء احتجاج کی حمایت کرتی ہے ہم ان کا ساتھ دیں گے، آزادعدلیہ کے لیے وکلا کی جدوجہد میں ساتھ ہوں گے، حال ہی میں ایک عدالتی فیصلے کی آڑ میں 17 ہزار ملازمین کو برطرف کیا گیا، ہرملازم کے پیچھے پانچ سات افراد کفالت میں ہوں گے، جس پر احتجاج کرتے ہیں متاثرین کی قانونی مدد کریں گے۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ کراچی کا جلسہ تاریخی جلسہ ہوگا، سندھ کے مسائل کو بھی اجاگر کریں گے، سندھ کے عوام کے حقوق پر بھی بات کریں گے، پیپلز پارٹی نے اپنی پوری قوت اور سنجیدگی کے ساتھ پی ڈی ایم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی ہے، پیپلز پارٹی کا مسئلہ قصہ پارینہ بن چکا ہے لیکن ہم ان کے لیے محاذ نہیں کھولیں گے، ہمارا ہدف نااہل حکومت کو فارغ کرنا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا کہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن کی سرپرستی میں متفقہ طور پر آگے بڑھے گی، ستمبر اجلاس میں تحریک کا فیصلہ کن شیڈول دیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صرف جلسوں پر اکتفا نہیں کریں گے عملی جدوجہد کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن متحد ہے اوراس میں کوئی اختلاف نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خواتین کراچی کے جلسے میں بھرپور شرکت کریں گی ان کے لیے علیحدہ انتظام کیا جائے گا۔ قبل ازیں پی ڈی ایم انتظامی کمیٹی نے خواتین کو جلسے میں مدعو نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اور مجموعی ملکی صورت حال کے سبب خواتین کو شرکت سے روکا گیا۔ جے یو آئی کے راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ ہم خواتین کی سیاست میں شرکت کے مخالف نہیں لیکن کورونا کی صورتحال کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاہم اب یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم کا اجلاس شروع ہونے سے قبل جے یو آئی (ف) کے رہنما راشد سومرو نے (ن) لیگی رہنماؤں عطا اللہ تارڑ ، مریم اورنگزیب اور محمد زبیر کو روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پہلے ہی (ن) لیگی بڑی تعداد میں موجود ہیں، ایسی صورت میں انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تاہم شہباز شریف کی مداخلت پر انہیں اجلاس میں شرکت کی اجازت مل گئی۔

اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، اس دوران دھکم پیل ہوئی جس کے باعث دروازہ ٹوٹ گیا، بعد ازاں (ن) لیگی کارکنوں کو ہوٹل سے باہر نکال دیا۔

 

Related Articles

Back to top button