پاکستانی خبریں

بختاور بھٹو زرداری نے عوامی مقامات پر فیملی کے بغیر مردوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا

سابق صدر آصف زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے عوامی مقامات پر فیملی کے بغیر مردوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔

خیال رہے کہ یوم آزادی کے موقع پر گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر کو سیکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں خواتین کو ہراساں کرنے کی مزید ویڈیوز سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

صحافی سبین آغا کی جانب سے عوامی مقامات پر ہراساں کرنے کا ایک واقعہ بیان کرنے پر بختاور بھٹو نے عوامی مقامات پر اہل خانہ کے بغیر مردوں کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا۔

بختاور بھٹو نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ یہ ایک اور تکلیف دہ واقعہ ہے، پولیس نے دیکھنے کے باوجود بھی مدد سے انکار کیا جبکہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہتھیاروں کا استعمال کیا جاسکتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مقامات پر مردوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جانی چاہیے، خواتین کی حفاظت کے لیے مزید خواتین کی ضرورت ہے۔

بعدازاں آج (23 اگست کو) شیئر کی گئی ایک اور ٹوئٹ میں بختاور بھٹو نے کہا کہ وہ عوامی مقامات پر اہل خانہ کے بغیر مردوں کے داخلے پر پابندی کے مطالبے پر ابھی بھی قائم ہیں۔

بختاور بھٹو نے کہا کہ مردوں کو بہنوں، ماؤں، بیٹیوں اور بیویوں کے بغیر عوامی مقامات پر جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، شاید وہ اس طرح خواتین پر حملہ کرنے سے قبل 2 بار سوچیں گے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ خواتین پر پے در پے بڑھتے ہوئے حملوں کو روکنے کا اس سے بہتر کوئی آپشن نہیں۔

خیال رہے کہ 14 اگست کو خاتون کو مینار پاکستان کے قریب یوم آزادی کے موقع پر سیکڑوں افراد نے ہراساں کیا تھا، جس کے بعد مذکورہ واقعے کی 17 اگست کو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی تھی۔

لاہور میں لاری اڈہ تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ یوم آزادی کے موقع پر 6 ساتھیوں کے ہمراہ مینار پاکستان کے قریب ویڈیو بنا رہی تھیں کہ 300 سے 400 لوگوں نے ان سب پر حملہ کر دیا۔

ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 354 اے (عورت پر حملے یا مجرمانہ طریقے سے طاقت کا استعمال اور کپڑے پھاڑنا)، 382 (قتل کی تیاری کے ساتھ چوری کرنا، لوٹ کی نیت سے نقصان پہنچانا)، 147 (فسادات) اور 149 کے تحت درج کی گئی تھی تھی۔

Related Articles

Back to top button