پاکستانی خبریں

حکومت کا تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بند رکھنے کا اعلان

حکومتِ سندھ نے محکمہ تعلیم کے زیر انتظام تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بند رکھنے کا حکم جاری کردیا۔

محکمہِ تعلیم سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ‘سندھ ٹاسک فورس کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے اور متعلقہ حکام کی منظوری کے ساتھ حکومتِ سندھ کے ایڈمنسٹریٹو کنٹرول آف اسکول ایجوکیشن اینڈ لیٹریسی ڈپارٹمنٹ (محکمہ تعلیم) کے زیر انتظام تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے تاحکم ثانی بند رہیں گے’۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 20 اگست کو نیوز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ صوبے میں کورونا وائرس کی صورت حال کے پیشِ نظر مزید ایک ہفتہ یعنی 30 اگست تک اسکول بند رکھے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید ایک ہفتہ اسکول اس لیے نہیں کھولے جارہے تاکہ اساتذہ اور طلبہ کے والدین اپنی ویکسینیشن کروالیں، اسکول کے اساتذہ اور عملے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے والدین کو بھی اپنا ویکسنیشن سرٹیفکیٹ دکھانا ہوگا۔

یاد رہے کہ صوبہ سندھ میں عالمی وبا کی چوتھی لہر بالخصوص ڈیلٹا قسم کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر 26 جولائی سے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے تاہم امتحانات شیڈول کے مطابق ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔

بعدازاں کورونا کیسز میں اضافے کے بعد سندھ میں یکم اگست سے 8 اگست تک سخت لاک ڈاؤن بھی لگایا گیا تھا تاہم اس میں توسیع نہیں کی گئی تھی۔

بعدازاں محکمہ تعلیم سندھ نے اپنے ماتحت تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے 19 اگست تک بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

اس ضمن میں وزیر تعلیم سندھ نے اعلان کیا تھا کہ اسکولوں کو کھولنے کے لیے 20 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور 7 یا 8 محرم کو صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس بلایا جائے گا۔

بعد ازاں 17 اگست کو اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ نے 23 اگست سے صوبے میں اسکول کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ 50 فیصد حاضری کے ساتھ اسکول کھولے جائیں گے اور ایس او پیز پر عمل لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جو اسکول پیر تک اساتذہ کی 100 فیصد ویکسینیشن کا یقین دلائیں گے وہی اسکول کھل سکیں گے اور ساتھ ہی والدین کے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ بھی اسکول میں جمع کروائے جائیں گے جبکہ اچانک سے رینڈم پی سی آر ٹیسٹ بھی کیے جائیں گے۔

البتہ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ 9 اور 10 محرم کے اثرات کا جائزہ جمعے کو لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے 13 اگست کو ایک ورکنگ کمیٹی بھی بنائی جاچکی ہے۔

Related Articles

Back to top button