پاکستانی خبریں

نادرا نے شناختی کارڈ کی تجدید کیلئے آن لائن نظام متعارف کروا دیا

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے خاندانی شجرے کی تصدیق اور کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کی تجدید کے لیے نیا آن لائن نظام متعارف کروادیا۔

اس نظام سے متعلق اس میں لکھا ہے کہ پاکستانی شہری ایس ایم ایس کے ذریعے شناختی کارڈ کا نمبر اور اس کے اجرا کی تاریخ 8009 پر بھیج کر اپنے اہل خانہ کی تفصیلات اور اس کی تصدیق حاصل کرسکیں گے، میسج کے جواب میں ایس ایم ایس بھیجنے والے کو اس کے اہل خانہ کی تفصیلات موصول ہوں گی۔

نادرا کے چیئرمین طارق ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘اگر کوئی بھی معلومات غلط ہو یا کسی اجنبی یا غیر متعلقہ شخص کا نام خاندان میں شامل ہو تو نادرا کو آگاہ کرنے کے لیے ‘1’ لکھ کر ایس ایم ایس بھیجیں یا نادرا کے کسی بھی رجسٹریشن سینٹر میں جاکر نام غیر رجسٹر کروائیں’۔

انہوں نے کہا کہ اگر معلومات درست ہوں تو ان کی تصدیق کے لیے 2 لکھ کر میسج کریں۔

چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ تصدیق اور تجدید کے نظام سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نادرا میں اسی موبائل نمبر سے ایس ایم ایس رجسٹر کروائیں جو ‘بی’ فارم یا شناختی کارڈ کے حصول کے دوران فراہم کیا گیا تھا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘اگر موبائل نمبر نادرا سے رجسٹرڈ نہیں ہے تو آپ نمبر رجسٹر یا تبدیل کرانے کے لیے کسی بھی نادرا سینٹر جاسکتے ہیں اور یہ سہولت تمام نادرا سینٹرز میں مفت فراہم کی جارہی ہے’۔

نادرا نے کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر سماجی فاصلے کے دور میں انسانی رابطوں سے احتیاط برتنے کے لیے شناختی کارڈ کی آن لائن تجدید کے لیے آئی ٹی پر مبنی حل متعارف کرایا ہے۔

حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سسٹم کے تحت ‘پاکستانی شہری اس بات کی تصدیق کر سکیں گے کہ ان کے خاندان میں کوئی غیر متعلقہ یا اجنبی شخص رجسٹر نہ ہو، اگر اس میں کوئی نامناسب اندراج ہو تو انہیں جلداز جلد نادرا کو شکایت کرنی چاہیے’۔

اس حوالے سے نادرا نے ‘آپ کا خاندان محفوظ تو پاکستان محفوظ ‘ کے نام سے ایک آگاہی مہم کا افتتاح کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو چیک کرنے کے لیے بھی یہ نظام مدد گار ثابت ہوگا۔

یہ مسئلہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان کے نادرا ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران زیر بحث آیا تھا جہاں انہوں نے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی ان رپورٹس پر نادرا حکام سے بات چیت کی تھی جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے پاس بھی شناختی کارڈز ہیں جنہیں چیک کیے جانے کی ضرورت ہے۔

طارق ملک نے وزیراعظم کو بتایا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نادرا کے ڈیٹا بیس کو کسی بھی قسم کے غلط اندراج سے پاک کیا جاسکے گا اور اس سے جعلی شناختی کارڈز کی شناخت بھی کی جاسکے گی۔

علاوہ ازیں وزیراعظم کو وزیراعظم کو ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کے تحت نادرا کے روڈ میپ پر بریفنگ بھی دی گئی۔

Related Articles

Back to top button