پاکستانی خبریں

سابق صدر پاکستان ممنون حسین کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا

سابق صدر پاکستان ممنون حسین کو شہر قائد میں سپرد خاک کردیا گیا۔

سابق صدر ممنون حسین کی نماز جنازہ سلطان مسجد میں ادا کی گئی، جس میں مسلم لیگ ن کے نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق گورنر سندھ محمد زبیر سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات سمیت بڑی تعداد میں‌ عوام نے شرکت کی۔

مفتی تقی عثمانی نے ممنون حسین کی نماز جنازہ کی امامت کی، جبکہ اُن کی تدفین ڈیفنس فیز 8 کے قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ کی گئی۔

 

یاد رہے کہ کینسر سے نبردآزما ممنون حسین ایک روز قبل کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے تھے، جس کی تصدیق اُن کے صاحبزادے ارسلان ممنون نے کی تھی۔

وزیراعظم عمران خان، صدر پاکستان عارف علوی، چیف آف آرمی اسٹاف، قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز، بلاول بھٹو، آصف زرداری سمیت دیگر شخصیات نے اُن کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور اہل خانہ کے صبر کے لیے دعا کی تھی۔

ممنون حسین 2013 سے 2018 تک پاکستان کے صدر رہے اور ان کا شمار مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔

ممنون حسین مُلک کے 12 ویں صدر رہے اور اس کے علاوہ وہ گورنر سندھ بھی رہے تھے۔

ممنون حسین سنہ 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں متوسط گھرانے پیدا ہوئے، تقسیم برصغیر کے وقت وہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان پہنچے اور یہیں پر مستقل سکونت اختیار کی۔

منون حسین نے آئی بی اے سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور اپنے خاندانی کپڑے کے کام سے جوڑ گئے، انہوں نے 1970 میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی مگر کبھی زیادہ متحرک نہیں رہے۔

کراچی کے علاقے جامع کلاتھ مارکیٹ بندر روڈ پر ممنون حسین کپڑے کی تجارت کرتے رہے ہیں، اسی علاقے میں ان کا گھر بھی تھا بعد میں وہ ڈیفنس میں منتقل ہوگئے۔

ممنون حسین سنہ 1997 میں سندھ کے وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی کے مشیر رہے، سنہ 1999 میں انہیں گورنر مقرر کیا گیا، مگر صرف چھ ماہ بعد ہی میاں نواز شریف کی حکومت ختم ہوگئی تھی۔

نوازشریف کی از خود جلاوطنی کے بعد ممنون حسین منظر عام سے غائب ہوگئے تھے اور کسی بھی احتجاج میں نظر نہیں آتے تھے۔

Related Articles

Back to top button