پاکستانی خبریں

پی ٹی آئی نے رنگ روڈ کی کرپشن کو بے نقاب کرنے کا وعدہ کیا: فردوس عاشق اعوان

فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے رنگ روڈ کی کرپشن کو بے نقاب کرنے کا وعدہ کیا تھا اور محکمہ اینٹی کرپشن کی کارروائی سے پی ٹی آئی کا وعدہ پورا ہوگیا۔

ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے رنگ روڈ کرپشن کیس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وزیراعلیٰ کے اقدامات سب کے سامنے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سابق کمشنر راولپنڈی، پروجیکٹ ڈائریکٹر رنگ روڈ کرپشن پر گرفتار ہوئے اور ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر کرپٹ کی گردن پر قانون کا شکنجہ سخت ہوگا۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ گرفتار افسران نے ملی بھگت سے رنگ روڈ منصوبے کی الائمنٹ میں تبدیلی کی اور اسے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے پرنسپل سیکریٹری کی زمین سے گزارا گیا اور توقیر شاہ کی زمین سے گزارنے کےلیے دو کلومیٹر سی ڈی اے کی زمین شامل کی گئی۔

کشمیر سے متعلق ڈاکٹر فردوس اعوان کا کہنا تھا کہ کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کے زخموں پر مرحم رکھنے جارہے ہیں، وزیراعظم کی توپوں کا نشانہ مودی اور بھارتی فوج ہوگی۔

وزیراعظم کشمیریوں کا وکیل ہے، جنہوں نے دنیا میں مودی کا انتہا پسند چہرہ بے نقاب کیا اسی لیے کشمیری قیادت اور عوام صرف عمران خان کو اپنا نجات دہندہ مانتے ہیں اور اپنے مسیحا کے طور پر اپنا مقدمی دیکھنا چاہتے ہیں۔

ساتھ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات مسلم لیگ نواز کو بھی ہدف تنقید بنانا نہ بھولیں اور کہا کہ ن لیگ کی سیاست کا ہر باب ووٹ اور وسائل کی چوری میں لت پت ہے، ن لیگ نے ووٹ چوری کرکے تین مرتبہ اقتدار حاصل کیا اور عوام کے وسائل کو لوٹ کر پاکستان کو چونا لگایا۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے لوٹ مار کے بعد باہر جانےکی روایت قائم کی۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ جعلی راجکماری (مریم نواز) اس طرح کا سرکس گلگت بلتستان میں بھی کرکے آئی تھیں لیکن وہاں کے لوگوں نے لوٹ مار کے اس بیان کو زمین بوس کردیا اور ذلت شاہی خاندان کے حصے میں آئی۔

خیال رہے کہ رنگ روڈ اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ میں تحقیقاتی ٹیم نے غیر قانونی کاموں کی نشاندہی کے ساتھ 2 ارب سے شروع ہونے والے منصوبے کو 60 ارب تک پہنچانے کی وجوہات تلاش کرلیں۔

اینٹی کرپشن پنجاب نے تحقیقاتی رپورٹ میں تین افراد کے خلاف کیس درج کرنے کی منظوری دی، جن میں سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود، سابق لینڈ کنٹریکٹر (راولپنڈی ڈیولیپمنٹ اتھارٹی) وسیم علی، پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد عبداللہ شامل ہیں جبکہ مستقبل میں مزید اہم گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

Related Articles

Back to top button