پاکستانی خبریں

پی ٹی آئی کی حکومت نے گالم گلوچ، بدتمیزی اور بداخلاقی کی سیاست کی بنیاد ڈالی ہے: ناصر شاہ

وزیر اطلاعات سندھ ناصر شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی وزرا کراچی میں آکر سندھ حکومت کو بُرا بھلا کہنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے گالم گلوچ، بدتمیزی اور بداخلاقی کی سیاست کی بنیاد ڈالی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے یہ رد عمل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے کچھ دیر قبل کراچی پریس کلب میں دیئے گئے بیان دیا۔

کراچی پریس کلب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان کے جو ریمارکس سندھ حکومت کے بارے میں آئے ہیں تو مراد علی شاہ کی جگہ کوئی ایسا بندہ ہوتا جس کی تھوڑی بہت عزت ہوتی تو وہ استعفیٰ دے چکا ہوتا لیکن انہیں کوئی پرواہ ہی نہیں بلکہ وہ اسے انجوائے کررہے ہیں اور کٹھ پتلیوں کے ذریعے چیف جسٹس کے خلاف تقاریر کروا رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) علاقائی جماعتیں ہیں، آج بلاول بھٹو زرداری پنجاب پر پانی چوری کا الزام لگاتے ہیں لیکن جب ارسا نے پانی کے بہاؤ کی پیمائش کی بات کی تو مراد علی شاہ جوتے چھوڑ کر بھاگ گئے۔

فواد چوہدری کی مذکورہ بات پر رد عمل دیتے ہوئے سندھ کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ فواد چوہدری جب زرداری صاحب کے خلاف بیان دیتے ہیں تو میں بہت حیران ہوتا ہوں کیوں کہ یہی فواد چوہدری زرداری ہاؤس کا طواف کرتے تھے کہ کوئی پوزیشن مل جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری نے فواد چوہدری کو پارٹی میں عزت دی اور سیاست میں روشناس کرایا، زرداری صاحب اور فریال تالپور کے خلاف بیان بازی سے فواد کا چھوٹا پن نظر آتا ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ فواد چوہدری اگلے الیکشن میں سندھ میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ آئندہ انتخابات میں ہجرت کرنے والے پرندوں کی طرح فواد چوہدری پھر کسی اور پارٹی میں ہجرت کریں گے۔

ناصر حسین شاہ نے دعویٰ کیا کہ آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کو پورے ملک میں اُمیدوار نہیں ملیں گے، پی ٹی آئی اپنا سیاسی وجود کھو بیٹھے گی اور کرائے کے ترجمان بھاگ کر اپنے گھونسلوں میں چلے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری سندھ میں آکر وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف بیان دے کر اپنی فرسٹریشن نکالتے ہیں وہ حلفیہ بتائیں کہ پورے ملک میں کونسا وزیراعلیٰ سب سے بہتر ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ فواد چوہدری کو اگر فنڈز کی مانیٹرنگ کرنی ہے تو جا کر خیببر پختونخوا میں کریں جہاں بی آر ٹی اور مالم جبہ کی کرپشن جبکہ پنجاب میں رنگ روڈ، چینی چوری، گندم اسکینڈل اور شراب کے پرمٹس کی کرپشن انہیں نظر نہیں آتی۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سندھ میں کرپشن کرنے کے لیے اپنے اراکین صوبائی اسمبلی کو ڈائریکٹ فنڈز دیے اور ایم پی ایز وفاقی فنڈنگ پر چھوٹے چھوٹے منصوبوں میں کرپشن کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم سے وفاقی حکومت نے ارسا کو ناکارہ بنا دیا ہے، فواد چوہدری سندھ میں پانی کی چوری کا الزام لگاکر مسئلے کو کہیں اور لے جانا چاہتے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ فواد بھائی تھوڑی ڈیسینسی، تھوڑے لحاظ اور اخلاقیات کا مظاہرہ کیا کریں، وہ کہتے ہیں کہ سندھ میں جمہوریت کے نام پر آمریت نافذ ہے، اصل میں انہوں نے عمران کی آمریت دیکھی ہے اسی لیے ان کو ہر جگہ آمریت نظر آتی ہے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ فواد چوہدری آرٹیکل 144 کی بات کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو ان کی میعاد مکمل کرنے دی۔

مرتضیٰ وہاب

بعد ازاں اس حوالے سے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وفاقی حکومت کو گونگے لوگ پسند ہیں، انہیں عثمان بزدار، محمود خان پسند ہیں کیوں کہ وہ خاموش رہتے ہیں لیکن انہیں مراد علی شاہ نہیں پسند، کیوں کہ وہ عوام کی ترجمانی کررہے ہیں۔

ترجمان حکومت سندھ نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان کے ردِ عمل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی آبادی کو صحیح نہیں دکھایا تو مراد علی شاہ نے یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایا اور بڑی بڑی باتیں کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور جی ڈی اے نے عمران خان کا ساتھ دیا لیکن صوبہ سندھ کے عوام کا ساتھ پیپلز پارٹی سے بغض رکھنے کی وجہ سے نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے اعلان کیے جاتے ہیں کہ زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی حکومت کو لات ماردیں گے لیکن امین الحق اور فہمیدہ مرزا اس کمیٹی کے رکن تھے جس نے متنازع مردم شماری کے نتائج منظور کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اہنے صوبے کا مقدمہ مشترکہ مفادات کونسل میں رکھا اور اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے پارلیمان کو اپنی درخواست ارسال کی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے لوگ کہتے ہیں کراچی پاکستان کی معیشت میں 70 فیصد کردار ادا کرتا ہے، کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے تو سارا سندھ اس سے زیادہ کرتا ہے لیکن جب پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پورٹ فولیو) پر نظر ڈالی جائے تو اس میں بقیہ تینوں صوبوں کی بہت سی اسکیمین نظر آتی ہیں لیکن جو صوبہ پاکستانی معیشت کو چلاتا ہے اس کی کوئی اسکیم نظر نہیں آتی۔

ترجمان حکومت سندھ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اگر این ای سی کے اجلاس میں سندھ کی بات کرتے ہیں تو انہیں ناگوار گزرتی ہے وہ کہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس کی زباں بندی کردو کیوں کہ وہ ان کی لائن پر نہیں چل رہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی آئین کے مطابق تمام صوبوں میں پی ایس ڈی پی کو معقول طریقے سے تقسیم کیا جائے تو جب سوالات اٹھائے جاتے ہیں تو آپ الزامات پر آجاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فواد چوہدری نے کہتے ہیں کہ سندھ کو دیے جانے والے پیسے کا آڈٹ کیا جائے گا تو آپ سندھ کو پیسہ دے کر احسان کررہے ہیں یا آپ کے والد صاحب کے پیسے ہیں یہ ہمارا آئینی حق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کم عقلوں کو یہ نہیں معلوم کہ ہر صوبے کے فنڈز کا آڈٹ کرنا آڈیٹر جنرل پاکستان کی ذمہ داری ہے جو وفاق کے ماتحت ہے اور ہر سال ہر صوبائی حکومت کے فنڈز آڈٹ کیے جاتے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ سندھ میں آرٹیکل 140 اے کا نفاذ ہونا چاہیے، یہ پہلا وزیر ہے جس کا فوکس صرف ایک صوبے پر ہے کیا یہ دفعہ صرف صوبہ سندھ کے لیے پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد کے لیے نہیں ہے؟

انہوں نے کہا کہ ہمیں کہہ رہے کہ ہمارا بلدیاتی نظام بااختیار نہیں تو ہم نے نظام کو چلنے تو دیا، وسائل فراہم کیے لیکن اگر مقامی حکومتوں کا نطام پورے پاکستان میں کہیں چلا تو وہ سندھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ بلڈنگز مسمار کرنے کا حکم دے رہی ہے جو نعمت اللہ اور مصطفیٰ کمال کے دور مین کمرشلائز ہوئیں اور اس اقدام کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا لیکن اس وقت عدالتوں نے اسے ٹھیک قرار دیا اور آج یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ وہ غلط ہے۔

Related Articles

Back to top button