پاکستانی خبریں

تاجر ایکشن کمیٹی کا کراچی میں مارکیٹیں 8 بجے تک کھولنے کا فیصلہ موخر

تاجر ایکشن کمیٹی نے کراچی میں مارکیٹیں 8 بجے تک کھولنے کا فیصلہ پیر تک موخر کردیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ کمشنر کراچی اور تاجر ایکشن کمیٹی کے درمیان ہفتے کی شام مارکیٹوں کے کاروباری اوقات کار سے متعلق مزاکرات ہوئے۔ مزاکرات میں تاجروں نے صوبائی وزیر کی یقین دہانی پر آج مارکیٹوں کو 8 بجے شب تک کھولنے کا فیصلہ پیر تک کے لیے موخر کردیا ہے تاہم تاجر ایکشن نے واضح کیا ہے کہ پیر تک اگر سندھ حکومت نے کوئی نوٹیفیکشن جاری نہ کیا تو تاجر ایکشن کمیٹی ازخود 8 بجے تک مارکیٹیں کھولے گی۔

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تاجر ہمارے بھائی ہیں ان کے تمام مطالبات وزیراعلی سندھ تک پہنچا دیے ہیں، پیر کو این سی او سی کا اجلاس ہے، اس اجلاس کے بعد ہی تاجروں کو خوشخبری دیں گے، اگر تاجروں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ تاجروں کے مطالبے پرتمام اضلاع میں کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی جائے گی تاکہ مستقبل میں تاجروں کے خلاف ایکشن سے قبل تاجر کوآرڈینیشن کمیٹی سے بات چیت کی جاسکے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے تاجروں کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے تاجر انجمنوں کو درخواست کرکے بلایاہے تاکہ چپقلش کے تاثر کوختم کیاجاسکے، تاجرنمائندوں سے کہاہے کہ وہ پیر تک 8 بجے شب تک مارکیٹیں کھولنے کے فیصلے کومؤخر کریں جبکہ حکومت سندھ پیر تک تاجروں بیشتر مطالبات پورے کردے گی۔

انہوں نے بتایا کہ تاجر نمائندوں نے پولیس اور انتظامیہ کے رویئے کی شکایات کی ہیں اور تاجروں کی شکایات پر ایس ایچ او سعود آباد کو ریورٹ اور معطل کیا ہےاور بھی ایکشن بھی لئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ضلعی سطح پر کوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ تاجر تنظیموں اورانتظامیہ کے درمیان رابطوں کو مضبوط کرکے فیصلوں میں تاجر برادری سے مشاورت کی جائے گی ہم نہیں چاہتے کہ کسی کا معاشی قتل ہو۔ ہم نے فیصلے خوشی سے نہیں بلکہ عوام کی حفاظت کےلیے کیے اور تمام فیصلے این سی او سی کے تحت فیصلے کیے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود نشاندہی کی تھی کہ کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں۔ کچھ لوگ نفرت اور لسانیات کی باتیں کر رہے ہیں جب لاھور، اسلام آباد، پشاور میں مارکیٹیں بند ہوئیں تو کسی نے بات نہیں کی جب سندھ حکومت نے اس ضمن میں اقدامات سخت کیے تو اسے پی ٹی آئی اور ایم کی ایم نے معاشی قتل قرار دیدیا حالانکہ ایم کیو ایم خود لوگوں کے فزیکلی قتل عام کیا ،بوری بند لاشوں ، جلاؤ گھیراؤ اور بھتوں میں ملوث رہی ہے۔

Related Articles

Back to top button