پاکستانی خبریں

خیبرپختونخوا اور پنجاب نے عوام کیلئے ہیلتھ انشورنس کا فیصلہ کیا: وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میرا ایمان یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے اس وقت بھی اگر آپ انسانیت کے لیے کوششیں کرتے ہیں، ان کی بہتری کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں تو اللہ خوش ہوتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ ریاست غریب طبقے کی مدد کررہی ہے تو وہ اس معاشرے…

صوبہ پنجاب کے علاقے لیہ میں صحت انصاف کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یہی وجہ تھی کہ ریاست مدینہ میں جب پیسہ بھی نہیں تھا اس وقت ریاست نے اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لے کر دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست قائم کی اور یہ دنیا گواہ ہے کبھی اتنا بڑا انقلاب نہیں آیا جو مدینہ کی ریاست لے کر آئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا بھی یہی مقصد ہے ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے، مقروض ہیں، قرضوں پر سود دینے میں ہی آدھی رقم چلی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود صوبہ خیبرپختونخوا اور پنجاب نے عوام کے لیے ہیلتھ انشورنس کا فیصلہ کیا، اس کی وجہ سے آپ لوگوں کے پاس پیسہ آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک وہ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ پہلے پیسہ اکٹھا کریں گے پھر فلاحی ریاست بنائیں گے دوسرے وہ جو ہماری طرح کے ہوتے ہیں اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور سجھتے ہیں کہ پہلے ہم لوگوں کی خدمت کریں گے پھر اللہ پیسہ دے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب پاکستان قائم ہوا تو اسے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا لیکن ہم نے کبھی یہاں فلاحی ریاست نہیں دیکھی۔

انہوں نے بتایا کہ جب میں 18 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ برطانیہ گیا تو وہاں 2 چیزیں نظر آئیں جو پاکستان میں نہیں تھی، حالانکہ اس وقت پاکستان دنیا میں ایک مقام رکھتا تھا اور تیزی سے ترقی کررہا ہے، دنیا میں ہماری مثالیں دی جاتی تھیں اور دنیا میں کہیں بھی جانے کے لیے پاکستانیوں کو ویزوں کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں پہلی چیز قانون کی حکمرانی دیکھی، وہاں شہزادہ یا شہزادی سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں تھا دوسرا پہلی مرتبہ فلاحی ریاست دیکھی جہاں کوئی بھی سرکاری ہسپتال میں مفت علاج ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میں نے پہلی مرتبہ سمجھا کہ فلاحی ریاست ہوتی کیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں کسی غریب آدمی کے ساتھ ناانصافی ہوتو عدالت میں جانے پر اسے مفت انصاف ملتا ہے، اگر اس کے پاس پیسہ نہیں وہ سرکاری اسکولوں میں جاتا ہے تو اس کے بچوں کو مفت تعلیم ملتی ہے اور وہ تعلیم جو اسے ملک کا وزیراعظم بنا سکے جبکہ ہمارے سرکاری اسکولوں میں جو تعلیم ملتی ہے اس سے کبھی غریب کا بچہ آگے نہیں آسکتا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی بے روزگار ہوتا تو حکومت اسے پیسے دیتی اور سب سے بڑی نعمت وہاں مفت علاج تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر کسی غریب یا سفید پوش کے گھر میں بیماری اور علاج کا پیسہ نہ ہو تو صرف وہ جانتا ہے کہ اس کا گھر کس عذاب سے گزرتا ہے، شوکت خانم ہسپتال بھی اسی لیے بنایا کہ والدہ کے علاج کے لیے گیا تو وہاں کینسر کا مریض مل گیا تھا جس کے پاس دوا کے پیسے نہیں ہوپا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت میں نے سوچا کہ اللہ نے کبھی ملک کا اقتدار دیا تو سب سے پہلے لوگوں کے لیے یہ کام کرنا ہے کہ بیماری کی صورت میں انہیں پیسے کی فکر نہ ہو لہٰذا آج ہیلتھ انشورنس کا اعلان کرنے میں آج لیہ آیا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری پہلی ڈیوٹی یہ ہے کہ اللہ کو خوش کریں اور وہ اس وقت خوش ہوتا ہے جب انسانوں کی خدمت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ جب اس کے گھر میں بیماری آئے تو اسے یہ فکر نہ ہو کہ میرے پاس پیسہ نہیں ہے اور میرا علاج نہیں ہوسکتا جبکہ آج پنجاب کی 2 ڈویژن کے خاندانوں کو ہیلتھ کارڈز دیے جارہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہر خاندان کے پاس 7 لاکھ 20 ہزار روپے کی ہیلتھ انشورنس ہوگی اور وہ صرف سرکاری نہیں بلکہ کسی بھی ہسپتال میں جا کر علاج کرواسکتے ہیں اور اگر پیسہ ختم ہوجائے تو علاج مکمل کروانے کے لیے مزید 3 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان وہ کام کررہا ہے جو شاید ہی دنیا میں ہے، یونیورسل ہیلتھ کوریج کا جو سسٹم ہم لارہے ہیں وہ اس سے قبل دنیا میں نہیں ہے اور چونکہ پہلی مرتبہ پاکستان میں ہورہا ہے اس لیے اس پر مسلسل نگاہ رکھنی پڑے گی اس میں فراڈ کا بھی احتمال رہے گا، دیکھنا ہوگا کہ کوئی اس کا غلط استعمال نہ کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ نظام صحت کو مضبوط کرنے کے لیے نجی شعبے کو ہسپتالوں کی تعمیر کے لیے مراعات اور آسانیاں دی جائیں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ادواروں میں زیادہ پیسہ شہروں میں لگا جس سے پسماندہ علاقوں کے لوگ شہروں کی جانب تیزی سے منتقل ہونے لگے اور اس کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ وہاں موجود سہولیات محدود ہوتی جارہی ہیں، اس لیے ترقی میں سب علاقوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان میں ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے جنہیں اب برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے لیے پولیس چوکی بنانے کے ساتھ رینجرز کو بھی ہدایات جاری کروں گا۔

Related Articles

Back to top button