پاکستانی خبریں

نیب نے کیپٹن(ر) صفدر کے خلاف جاری انکوائری بند کرنے کی منظوری دے دی

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف جاری انکوائری بند کرنے جبکہ امیر مقام اور دیگر کے خلاف انکوائریز اور انوسٹی گیشنز کی منظوری دے دی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آباد میں ہوا، جس میں ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکوٹر جنرل نیب، ڈی جی آپریشنز اور دیگر سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری بیان میں نیب کا کہنا تھا کہ ‘نیب کی تمام انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی جاتی ہیں جوکہ حتمی نہیں ہوتیں’۔

نیب کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘ایگزیکٹو بورڈ کے اجلا س میں 3 ریفرنسز، 9 انکوائریاں کی منظوری دی گئیں جبکہ کیپٹن (ر) صفدر سمیت متعدد افراد کے خلاف جاری انکوائر عدم ثبوت پر بند کرنے کی منظوری دی گئی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں احسان اللہ محسود سابق سینئر رکن بور ڈ آف ریونیو خیبر پختونخوا، مقبول احمد لہڑی سابق ضلعی ناظم، ڈاکٹر کلیم اللہ، سابق مئیر میٹر و پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اور دیگرکے خلاف بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی، جن پر اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے غیر قانونی طور پر سرکاری زمین پر قبضے اورلیز پر دینے کا الزام ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ سابق وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حکومت بلوچستان میر محمد امین عمرانی اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جن پر اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طورپر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر اور سابق مشیر وزیر اعظم امیر مقام سمیت دیگر افراد کے خلاف 9 انکوائریز اور 3 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی گئی۔

نیب اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں این ایچ اے کے افسران اور اہلکاروں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر اعوان، پی ڈبلیو ڈی کے افسران، اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائریز اور سابق وزیر پیٹرولیم امان اللہ خان جدون اور دیگر، گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران، اہلکاروں اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن عدم ثبوت کی بنیاد پر قانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے افسران، اہلکاروں اور دیگر کے خلاف انکوائریز قانون کے مطابق مزید کاروائی کے لیے ڈی جی سی اے اے کو بھجوا نے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں این ٹی ڈی سی کے افسران، اہلکاروں اور دیگر کے خلاف تین انکوائریز قانون کے مطابق مزید کارروائی کے لیے نیپرا کو بھجوانے کی منظوری دی گئی۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر قانون کے مطابق عمل پیرا ہے، نیب انسداد بدعنوانی کا قومی ادادرہ ہے اور اس کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب نے اپنے قیام سے اب تک 790 ارب روپے جبکہ موجودہ قیادت کے گزشتہ تین برسوں کے دوران 487ارب روپے بدعنوان عناصر سے بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں جو ریکارڈ کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب شوگر، آٹا، رنگ روڈ اسیکنڈل، منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس، اختیارات کا ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثے، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور مضاربہ اسکینڈل کے ملزمان کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کو شاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب نے اربوں روپے کی بد عنوانی کے1269 ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کیے ہیں جو عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب پر بلاجواز تنقید کرنے والے تمام افراد کو مشورہ ہے کہ وہ تنقید کرنے سے پہلے نیب کی موجودہ قیادت کے دورمیں شان دار کارکردگی اور نیب آرڈیننس کو ضرور پڑھیں تاکہ آپ کو اصل حقائق سے آگاہی ہو۔

انہوں نے کہا کہ بعض افراد جن کے خلاف نیب نے احتساب عدالتوں میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ریفرنسز دائر کیے ہیں ان کو بھی مشورہ ہے کہ نیب کو ہدف تنقید بنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ نیب ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دینے پر یقین رکھتا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور مضاربہ اسیکنڈلز کے ملزمان سے عوام کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی کے لیے سنجیدہ کاوشیں کر رہا ہے۔

نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا خصوصاَ َ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل پاکستان، پلڈاٹ اور مثعال پاکستان نے نیب کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ جو نیب کیلئے اعزاز ہے۔

نیب نے میڈیا سے کہا ہے کہ نیب کے بارے میں کسی بھی خبر کو نشر/شائع کرنے سے پہلے نیب کا موقف ضرور لیا جائے جوکہ نیب کا آئینی اور قانونی حق ہے۔

Related Articles

Back to top button