پاکستانی خبریں

شریف برادران ایک اور مشکل میں، حکومت کا حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کیخلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ حدیبیہ کا مقدمہ شریف خاندان کی کرپشن کا سب سے اہم سرا ہے۔ جو طریقہ حدیبیہ میں پیسے باہر بھیجنے کیلئے استعمال ہوا، اسی کو بعد میں ہر کیس میں اپنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں شہباز شریف اور نواز شریف مرکزی ملزم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ حدیبیہ پیپرز ملز نامی کمپنی شریف خاندان نے 1992 میں کمپنی آرڈیننس 1984 کے تحت قائم کی۔

اس کمپنی کے سات ڈائریکٹرز تھے جن میں میاں محمد شریف، میاں شہباز شریف، عباس شریف، حمزہ شہباز شریف، حسین نواز شریف، صبیحہ عباس اور شمیم اختر ہیں ۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نواز شریف اور شہباز شریف پر الزام تھا کہ انہوں نے 1990ء کی دہائی میں اپنی ’حدیبیہ پیپر ملز‘ کے ذریعے 1.24 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔

دسمبر 2000ء میں شریف خاندان کی جلاوطنی کے باعث حدیبیہ ریفرنس اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچ سکا۔

سات برس بعد 2007ء میں نواز شریف کی وطن واپسی پر اسحاق ڈار اپنے اعترافی بیان سے منحرف ہوگئے۔

پیپلز پارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں ستمبر 2011ء میں نیب کی جانب سے احتساب عدالت راولپنڈی میں مقدمہ کھولنے کی درخواست دائر کی گئی۔

درخواست دائر ہوئی تو شریف خاندان نے ریفرنس کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں چیلنج کردیا۔

2012ء میں لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے شریف خاندان کی درخواست پر اختلافی فیصلہ دیا۔ دونوں ججوں کے اختلاف پر معاملہ ریفری جج کو بھجوایا گیا۔

مئی 2014ء میں ریفری جج نے حدیبیہ ریفرنس خارج کرنے کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

نیب بورڈ نے اپنے پراسیکیوٹر کی رائے پر فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد ستمبر 2014ء میں احتساب عدالت نے بھی حدیبیہ ریفرنس بحال نہ کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

واضح رہے کہ حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس میں میاں شریف، نواز شریف، عباس شریف اور اُن کی اہلیہ صبیحہ عباس، حسین نواز، حسن نواز، مریم نواز، وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، اُن کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور شریف برادران کی والدہ، شمیم اختر بھی ملزمان میں شامل ہیں۔

Related Articles

Back to top button