پاکستانی خبریں

مسجد اقصیٰ کے قریب عبادت میں مصروف فلسطینوں کو تشدد کا نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے: وزیر خارجہ

اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے قریب عبادت میں مصروف فلسطینیوں پر تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر حملوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انہوں نے ایک جاری بیان میں کہا کہ فلسطینیوں پر ظلم کرکے بے دخل کرنے کا کوئی اخلاقی اور سیاسی جواز نہیں بنتا۔

وزیر داخلہ نے حالیہ واقعات پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کی 27 ویں شب مسجد میں عبادت میں مشغول نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے، فلسطینیوں پر ظلم و ستم کسی صورت قابل قبول نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہے اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان نے فلسطین کے حوالے سے، ہمیشہ واضح اور ٹھوس مؤقف اختیار کیا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ عرب لیگ نے اس حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ عرب لیگ، او آئی سی اور مسلم امہ کو مل کر اس ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور انسانی حقوق کے علمبرداروں اور مغربی ممالک کی توجہ اس جانب مبذول کروانی چاہیے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فورسز نے گزشتہ روز بیت المقدس میں لیلۃ القدر پر خصوصی عبادات کے لیے مسجد اقصیٰ کے قریب جمع ہونے والے سیکڑوں فلسطینیوں کو مسلسل دوسری روز بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

فلسطین ریڈ کریسنٹ کے مطابق اس واقعے میں 80 افراد زخمی ہوئے جن میں کم سن اور ایک سال کی عمر کا بچہ بھی شامل ہے جبکہ 14 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اس سے قبل جمعے کو مشرقی بیت المقدس میں رات کے وقت ہونے والی جھڑپ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی صحت ورکرز نے بتایا تھا کہ کم از کم 205 فلسطینی اور 17 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلاموفوبیا کا ٹرینڈ بڑھتا جارہا ہے اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ حضورﷺ کی شان میں گستاخی کے واقعات، پوری دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں اور یہ کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں، جو عناصر نفرت کے بیچ بو رہے ہیں ہمیں مل کر ان کا سدباب کرنا ہو گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے وزیراعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں، ایران، ترکی اور انڈونیشین حکام کو اس معاملے پراعتماد میں لیا، مسلم ممالک کو مل کر او آئی سی کے فورم سے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔

 

Related Articles

Back to top button