پاکستانی خبریں

چین کے تعاون سے پاکستان میں تیار کردہ ویکسین مئی کے آخر تک استعمال کیلئے دستیاب ہوگی: اسدعمر

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ چین کے تعاون سے پاکستان میں کین سائنو فارم کی ویکسین کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ مئی کے آخر تک ویکسین استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اسد عمر نے کہا کہ ویکسین کی پہلی کھیپ قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) اسلام آباد میں تیار کی جارہی ہے۔ ویکسین کی تیاری ماہر ٹیم کی زیرنگرانی ہورہی ہے۔

 

دوسری جانب عالمی ادارہ (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کے خلاف چینی دوا ساز کمپنی سائنوفارم کی تیار کردہ کوویڈ ویکسین کی ہنگامی بنیادوں پر منظوری دے دی ہے۔

غیر مغربی ملک میں تیار ہونے والی یہ پہلی ویکسین ہے جسے ڈبلیو ایچ او نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

سائنوفارم کی تیار کردہ ویکسین چین اور دوسرے 45 ممالک میں لاکھوں افراد پہلے ہی لگوا چکے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادار بی بی سی کے مطابق اب تک ڈبلیو ایچ او نے صرف فائزر، ایسٹرا زینیکا، جانسن اور جانسن اور موڈرنہ کی تیار کردہ ویکسینوں کی منظوری دی چکی ہے۔

پاکستان، افریقہ ، لاطینی امریکہ اور ایشیاء کے دوسرے غریب ممالک کے صحت کے حکام نے پہلے ہی ہنگامی استعمال کے چینی ویکسین کی منظوری دے دی ہوئی ہے۔

بہت کم اعداد و شمار جاری ہونے کے سبب مختلف چینی ویکسینوں کی تاثیر کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے

ڈبلیو ایچ او نے بتایا ہے کہ سائنوفارم کی ویکسین کے اضافے سے “ہیلتھ ورکرز اور دیگر افراد تک کوویڈ ۔19 ویکسین کی رسائی کو تیز تر بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا”۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ چینی ویکسین 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے دو دفعہ لگواسکتے ہیں۔

چین کی دوسری سائنوویک کی ڈبلیو ایچ اور سے منظوری کا فیصلہ کچھ ہی دنوں میں متوقع ہے، جبکہ روس کی اسپٹنک فائیو ویکسین کا ابھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

Related Articles

Back to top button