وزیر اعظم نے بازاروں کا دورہ کیا۔ اشیا پڑی تھیں لیکن خریدار کوئی نہیں تھا، شاہد خاقان عباسی

وزیر اعظم نے بازاروں کا دورہ کیا۔ اشیا پڑی تھیں لیکن خریدار کوئی نہیں تھا، شاہد خاقان عباسی

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جس کام کی نگرانی وزیر اعظم کرتے ہیں اس کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ احتساب ملک کےعوام کا ہو رہا ہے۔ کیمرے لگا کر دکھایا…

انہوں نے کہا کہ کروڑوں کی آبادی کے لیے چند لاکھ کی ویکسین کی بات ہوئی۔ حکومت 10 کروڑ ویکسین کا آرڈر دے ا ین سی او سی کے اجلاس سے کچھ نہیں ہوتا۔ کیا این سی او سی عوام کو ماسک پہنا سکا ؟

مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما نے کہا کہ اپریل میں سب سے زیادہ مہنگائی ریکارڈ ہوئی جبکہ وزیر اعظم نے کہا تھا رمضان میں قیمتوں کے معاملات کی نگرانی میں خود کروں گا۔ وزیر اعظم جس کام کی نگرانی کا کہتے ہیں اس کا بیڑہ غرق ہی ہو جاتاہے۔

وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے بازاروں کا دورہ کیا۔ اشیا پڑی تھیں لیکن خریدار کوئی نہیں تھا۔ 3 سالوں میں بجلی کی قیمت میں 2 سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کورونا سے متعلق شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں اور ویکسین محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چینی برآمد کی گئی جس سے بحران پیدا ہوا۔ ملک کو آئین کے مطابق چلائیں تو انتخابی اصلاحات کی ضرورت نہیں جبکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنانا حکومت اور پارلیمان کا کام نہیں ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ کاغذی نظام کو مضبوط کریں۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے مزید مسائل پیدا ہوں گے جبکہ الیکٹرانک نظام بنانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ایک سرکاری افسر کے ساتھ حکومتی عہدیداروں کا سلوک سب نے دیکھا۔ سرکاری افسر سے معافی مانگیں کیونکہ یہ آپ کے نہیں بلکہ سرکار کے ملازم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں