کووڈ 19 کے خلاف اقدامات کیلئے وفاق سنجیدہ نہیں، ہمیں خود ہی کچھ کرنا ہوگا: مراد علی شاہ

کووڈ 19 کے خلاف اقدامات کیلئے وفاق سنجیدہ نہیں، ہمیں خود ہی کچھ کرنا ہوگا: مراد علی شاہ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق وفاقی حکومت کے ‘غیر سنجیدہ رویے’ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں خود ہی کوئی ایکشن لینا پڑے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بین الصوبائی گڈز ٹرانسپورٹ کو جاری رکھنے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ معاشی سرگرمیاں جاری رہیں اور کورونا وائرس کے عدم پھیلاؤ میں مدد مل سکے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے کراچی پورٹ پر تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی حمایت کی تھی۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ‘ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ اس وقت تمام مارکیٹس اور دیگر کاروبار کھلے رکھ سکتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی مسافروں بسوں پر پابندی سے متعلق میرے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کل کی تاریخ میں تقریباً 150 اموات ہوئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ پر 2 ہفتے کے لیے پابندی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکتا۔

سید مراد علی شاہ نے محکمہ صحت سندھ کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ حکام نے کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز میں اضافے کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘لگتا ہے وفاق کوئی ایکشن نہیں لے گی اس لیے ہمیں خود ہی کوئی اقدام لینا پڑے گا’۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ‘میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے کوئی حل نکالوں گا تاکہ لوگوں کو کورونا وائرس سے بچایا جا سکے’۔

لاہور میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں اور پولیس کے مابین پرتشدد چھڑپوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس معاملے پر وفاق نے صوبوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے معلومات موصول ہوئی کہ وفاقی وزیر اب مذاکرات کررہے ہیں لیکن اس کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کو تجویز دی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ہی ایک بہتر حل کی طرف جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ معاملہ چند روز قبل اٹھا تب بھی وفاق نے صوبوں کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ لاہور میں رونما ہونے والے واقعے کے بعد کراچی میں مفتی منیب الرحمٰن کی جانب سے ہڑتال کی کال دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج سے ہم کسی کو نہیں روکیں گے لیکن نقصِ امن کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ مفتی منیب الرحمٰن کی کال کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے دکان یا ٹرانسپورٹ بند کرنا چاہتا ہے تو اسے نہیں روکیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میں مسلم لیگ (ن) کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اپنی پارٹی کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ کوئی ڈیل کے اثرات نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے سینئر رہنما، سابق صوبائی اور وفاقی وزیر سید خورشید شاہ گزشتہ کئی برس سے جیل میں ہیں جبکہ دیگر سیاسی قیدیوں کو کوئی نہ کوئی ریلیف مل رہا ہے جس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے رہنماؤں کے خلاف بنائے گئے جھوٹے مقدمات کا سامنا کررہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں