بطور وزیر صنعت وپیداوار خسرو بختیار کی تعیناتی مفادات کا ٹکراؤ ہے: رضا ربانی

بطور وزیر صنعت وپیداوار خسرو بختیار کی تعیناتی مفادات کا ٹکراؤ ہے: رضا ربانی

سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما میاں رضا ربانی نے خسرو بختیار کی بطور وزیر صنعت وپیداوار تعیناتی کو مفادات کا ٹکراؤ قرار دے دیا۔

اپنے بیان میں رضا ربانی کا کہنا تھاکہ خسرو بختیار کی بطور وزیر صنعت وپیداوار تعیناتی مفادات کا ٹکراو ہے، خسروبختیاراورخاندان کی شوگرملز میں دلچسپی کا ذکر چینی کمیشن رپورٹ میں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شوگر کمیشن رپورٹ کے بعد خسرو بختیار کو وزیر قومی فوڈ سیکیورٹی سے ہٹایا گیا۔

رضا ربانی کا کہنا تھاکہ جون کا بجٹ، آئی ایم ایف اور پی ٹی آئی کا چوتھے وزیرخزانہ کے ساتھ تیسرا بجٹ ہوگا، ریکارڈ ظاہرکرتے ہیں کہ بجٹ سے عین پہلے نیا وزیرخزانہ لایا جاتا ہے، شاید اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ انہیں آئی ایم ایف بجٹ پرصرف دستخط کرنا ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں کابینہ میں ردوبدل کیا گیا اور خسرو بختیار کی وزارت بھی تبدیل کی گئی۔ ان سے اکنامک افیئرز کی وزارت لے کر صنعت و پیداوار کی وزارت دی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں