میرے خلاف 8 سے 10 سال پرانے معاملات کی ایف آئی آر درج کی گئیں، جہانگیر ترین

میرے خلاف 8 سے 10 سال پرانے معاملات کی ایف آئی آر درج کی گئیں، جہانگیر ترین

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ میرے خلاف درج مقدمات میں چینی کا ذکر نہیں ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوءے کہا کہ میرے خلاف 3 مقدمات ہیں اور کسی میں بھی شوگر مل کا ذکر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں انکم ٹیکس دیتاہوں اور مالی معاملات میں شفاف ہوں۔ میں پہلے کاشت کار تھا پھر بزنس مین بنا اور پھر سیاست میں قد م رکھا۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ میرے خلاف 8 سے 10 سال پرانے معاملات کی ایف آئی آر درج کی گئیں اور درج کردہ تینوں ایف آئی آرز میں چینی کی قیمت بڑھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے خلاف بے بنیاد الزامات لگا کر میری ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں سوا سال سے وزیر اعظم ہاؤس نہیں گیا اور نہیں معلوم میرے خلاف یہ سب کچھ کون کر رہا ہے ؟

اس موقع پر راجہ ریاض نے کہا کہ ہم وزیر اعظم سے انصاف کی اپیل کرتے ہیں، ہم تحریک انصاف کی چھتری تلے ہیں اور وزیر اعظم سے انصاف مانگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آخری بار کہہ رہے ہیں انصاف نہ ملا تو ہم بھی کوئی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔

اسحاق خاکوانی نے کہا کہ چند دن دے دیں پھر سب کچھ سامنے لے آئیں گے اور چند دنوں میں الزامات کا جواب دیں گے، آج نہ انصاف ہے نہ ایمانداری ہے، ہم کوئی ریلیف نہیں مانگ رہے اور نہ ہی بلیک میل کر رہے ہیں۔

اس سے قبل جہانگیر ترین اور علی ترین بینکنگ کورٹ لاہور میں شوگر ملز، جعلی اکاوَنٹ کیس کی سماعت کے لیے پہنچے۔ ان کے ہمراہ راجہ ریاض، سمیع گیلانی، مبین عالم، خواجہ شیراز، صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ، رکن قومی اسمبلی نذیر چوہان، اسلم بھروانہ بھی تھے۔

خرم لغاری، عمر آفتاب ڈھلوں، زوار بلوچ، نذیر بلوچ، لالہ طاہر رندھاوا، افتخار گوندل، سلمان نعیم، امین چوہدری سمیت مشیر اجمل چیمہ، عبدالحئی دستی، فیصل جبوانہ، رفاقت گیلانی، امیر محمد خان،عون چودھری اور عمران شاہ بھی ہمراہ تھے۔

عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت میں 3 مئی تک توسیع کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں