مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس؛ مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کا فیصلہ پھر ملتوی

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس؛ مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کا فیصلہ پھر ملتوی

صوبے مردم شماری سے متعلق کسی حتمی فیصلے پر نہ پہنچ سکے۔ مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے پر پیر کو دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

 مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بدھ کو مردم شماری سے متعلق کسی فیصلے پر اتفاق نہ ہو سکا۔

وزیرا عظم کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کونسل کے مستقل سیکریٹریٹ کی منظوری دے دی گئی، مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے پر پیر کو دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

چار گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں مردم شماری کے نتائج جاری کرنے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی۔

پنجاب اور خیبر پختون خوا نے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے، جب کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے معاملے کو نئی مردم شماری سے جوڑنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مردم شماری کے نتائج سے متعلق وقت مانگ لیا، جس کے بعد مردم شماری کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس سوموار کو دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے۔

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں نیپرا کی جانب سے بتایا گیا کہ سندھ میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے صوبے کو 3800 میگا واٹ اضافی بجلی دی جائے گی۔ جب کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر بلوچستان میں بجلی کی ایک اور تقسیم کار کمپنی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مشترکہ مفادات کونسل نے درآمد شدہ ایل این جی کے ریٹ طے کرنے سے متعلق تجویز کی منظوری دی، جب کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے معاملات طے کرے گا، صوبائی فوڈ اتھارٹیز کے معیار بھی پی ایس کیو سی ایس وفاق طے کرے گا۔

اجلاس میں مردم شماری میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں