جہانگیر ترین، زرداری سے ملاقات کر کے پی پی پی میں شمولیت اختیار کر لیں گے: شہلا رضا

جہانگیر ترین، زرداری سے ملاقات کر کے پی پی پی میں شمولیت اختیار کر لیں گے: شہلا رضا

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور سندھ کی صوبائی وزیر شہلا رضا نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنما اگلے ہفتے آصف زرداری سےملاقات کریں گے اور پی پی پی میں شمولیت کا اعلان کرسکتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹ پر ایک بیان میں شہلا رضا نے کہا کہ ‘جہانگیر ترین کی مخدوم احمد محمود سے ملاقات ہوئی ہے، اگلے ہفتے کراچی میں سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کریں گے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘خیال ہے کہ جہانگیر ترین اس ملاقات میں پی ٹی آئی چھوڑنے اور ساتھیوں سمیت پی پی پی میں شمولیت اختیار کر لیں گے’۔

شہلا رضا نے مزید کہا کہ ‘اگر واقعی ایسا ہوگیا تو نہ بزدار رہے گا اور نہ ہی نیازی ہوگا’۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق جہانگیر ترین نے کہا کہ میرے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور پیپلزپارٹی کی قیادت سے ملاقات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے خلاف خبریں چلوانے والوں کو مایوسی ہوگی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف مالیاتی فراڈ اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرلیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406، 420 اور 109 جبکہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت 2 علیحدہ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق انکوائری کے دوران جہانگیر ترین کی جانب سے سرکاری شیئر ہولڈرز کے پیسے کے غبن کی سوچی سمجھی اور دھوکہ دہی پر مبنی اسکیم سامنے آئی جس میں جہانگیر ترین کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو نے دھوکے سے 3 ارب 14 کروڑ روپے فاروقی پلپ ملز لمیٹڈ (ایف پی ایم ایل) کو منتقل کیے جو ان کے بیٹے اور قریبی عزیزوں کی ملکیت ہے۔

جہانگیر ترین نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں ایف آئی اے کے نوٹس کے جواب میں ٹھوس شواہد کے ساتھ تفصیلی رپورٹ جمع کرواچکا ہوں اور انہیں میرے اور میرے اہلِ خانہ کے خلاف قانونی طور پر کچھ ثابت کیے بغیر مہم چلاتے دیکھنا بدقسمتی ہے’۔

بعد ازاں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین نے لاہور کی سیشن کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کرلی تھی۔

جہانگیر ترین اور علی ترین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے نے جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا جبکہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا لیکن ایف آئی اے نے بے بنیاد مقدمے میں نامزد کر دیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکے۔

عدالت نے درخواست قبول کرتے ہوئے دونوں کی عبوری ضمانت منظور کرلی اور ایف آئی اے سے 10 اپریل تک مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔

جہانگیر ترین اور علی ترین نے سیشن کورٹ اور بینکنگ جرائم کورٹ سے مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت حاصل کرلی ہے، بینکنگ جرائم کورٹ نے 7 اپریل تک ضمانت منظور کر کے مقدمے کا ریکارڈ ایف آئی اے سے طلب کر لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں