لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثنااللہ کی ضمانت کی توثیق کردی

لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثنااللہ کی ضمانت کی توثیق کردی

لاہور ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کی ضمانت کی توثیق کردی۔

لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے رانا ثنا اللہ کی درخواست پر سماعت کی۔

رانا ثنا اللہ اپنے وکیل امجد پرویز کے ہمراہ عبوری ضمانت کی معیاد مکمل ہونے پر لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے جبکہ نیب کی لیگل ٹیم اور انوسٹی گیشن ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی۔

گزشتہ سماعت پر رانا ثنا اللہ کے وکلا نے دلائل دیے تھے۔

نیب کے وکیل فیصل بخاری نے حتمی دلائل دیے کہ چوہدری طاہر ریاض نے رانا ثنا اللہ کے خلاف 24 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو درخواست دی جس کے بعد قانون کے مطابق رہنما مسلم لیگ (ن) کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف نیب انکوائری منشیات کیس سے قبل شروع کی گئی اور درخواست میں ان کے اثاثوں کی چھان بین کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

فیصل بخاری نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے نام پر زرعی اراضی، ہاوسنگ سوسائٹیز، 6 لگژری گاڑیاں، دکانیں، پلاٹ اور بہت ساری پراپرٹی ہے۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی جائیداد ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی اور ان کے 9 نومبر 2020 کو وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

فیصل بخاری نے کہا کہ اے این ایف نے اثاثے منشیات سے بنانے کی دفعات نہیں لگائیں۔

جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اے این ایف نے پھر اثاثے منجمند کیوں کیے ہیں۔

وکیل نیب نے بتایا کہ اے این ایف نے سیکشن 37 کے تحت اثاثے منجمند کیے، اثاثے منجمند کرنے کے بعد کورٹ نے اسے کنفرم کرنا ہوتا ہے وہ معاملہ ٹرائل کورٹ میں ابھی زیر التوا ہے۔

عدالت کا استفسار کیا کہ کیا اے این ایف نے رانا ثنا اللہ کی ساری پراپرٹیز سیل کر رکھی ہیں؟

فیصل بخاری نے جواب دیا کہ رانا ثنا اللہ کی ساری جائیداد اے این ایف نے فریز کر رکھی ہے۔

عدالت کا نیب وکیل سے استفسار کیا کہ نیب کا کیس اسی پراپرٹی سے متعلق ہے؟

نیب وکیل نے جواب دیا کہ اے این ایف کا اپنا کیس ہے جبکہ نیب کا اپنا کیس ہے۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ جائیداد تو ایک ہی ہے نہ، وہ پہلے ہی منجمند ہو چکی ہے اور آپ مان رہے ہیں کہ انسداد منشیات عدالت کے فیصلے تک یہ جائیداد منجمند رہے گی۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ اے این ایف وقتی طور پر جائیداد منجمند کرتی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ فرض کریں اگر ملزم کو منشیات میں سزا ہو تو کیا جائیداد ضبط ہو گی۔

نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جی جائیداد ضبط ہو گی۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دے کہ تو پھر آپ کا کیس کہاں جائے گا۔

علاوہ ازیں دوران سماعت نیب کے وکیل فیصل بخاری نے بتایا کہ رانا ثنا اللہ 1993، 1997 میں ایم پی اے اور 2002، 2013، 2018 میں بھی رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے اثاثے 10 کنال زمین اور دو گھر تھے جبکہ 29 سال میں تنخواہ کی مد میں انکم ایک کروڑ 27 لاکھ ہے اور ان کی کوئی زرعی اراضی تھی نہ ہی کوئی بزنس۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ رہنما مسلم لیگ (ن) نے فیصل آباد ایک پلازے میں 1742 اسکوئر فٹ کا ہال خریدا اور یہ ہال اور دوکانیں 3 کروڑ سے زائد مالیت کی ہیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ رانا ثنا اللہ کے برکی روڑ پر چار چار کنال کے دو فارم ہاؤس ہیں، 51 لاکھ کے فارم ہاؤس خریدے اور جس سے خریدے اسی کو 4 کروڑ میں رانا ثنا اللہ نے بیچ دیے۔

نیب کے مطابق نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں رانا ثنااللہ کی چار دکانیں ہیں جن کی مالیت بھی لاکھوں میں ہے جبکہ ان کے بقول 26 لاکھ کی دکانیں فروخت کیں جبکہ خریدنے والے لوگ بتاتے ہیں یہ وہ دکانیں 60 لاکھ کی خریدی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رانا ثنا اللہ نے 96 لاکھ کا ایک پلاٹ خریدا اور اس کی مالیت 25 لاکھ بتائی جبکہ ان کی اہلیہ ایک کروڑ 90 لاکھ کا پلاٹ خریدتی ہیں اور 54 لاکھ بتاتی ہیں۔

اس پر رانا ثنا اللہ کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ تمام اثاثے ڈکلئیر ہیں جبکہ وہ 1990 سے ٹیکس فائلر ہیں اور ان کی اہلیہ اور داماد بھی ٹیکس فائلر ہیں۔

امجد پرویز نے اعتراض کیا کہ چیئرمین نیب کے پاس اثاثوں کی قیمت کم یا زیادہ بتانے کے معاملے کا اختیار نہیں۔

بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثنا اللہ کی ضمانت کی توثیق کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں