سندھ میں پانی کا بحران سر اٹھانے لگا

سندھ میں پانی کا بحران سر اٹھانے لگا

موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں پانی کا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔دریائے سندھ پر واقع کوٹری بیراج ڈاؤن اسٹریم میں پینے کے پانی کا بحران پیدا ہوگیا ہے، صورت حال پر محکمہ آب پاشی کی لاپرواہی اور غفلت بھی سامنے آئی ہے جہاں انہوں نے لاکھوں افراد پر مشتمل آبادی کو…

محکمہ آبپاشی نے واسا کی درخواست کو بھی کوئی اہمیت نہ دی اور ڈاؤن اسٹریم میں پینےکا پانی سے چھوڑنے سے انکار کیا، جس کے باعث لطیف آباد، کوہسار اور ڈاؤن اسٹریم پر آباد لاکھوں کی آبادی متاثر ہونے لگی ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ لطیف آباد یونٹ چار اور کوہسار میں دریا میں کھڑا گندا پانی استعمال کیا جارہا ہے، ظلم کی انتہا یہ ہے کہ کھڑے پانی میں “کائی” نے واسا کی پمپ کو ناکارہ بنادیا ہے، مقامی انتظامیہ اس دہری اذیت کے باعث سخت پریشانی کا شکار ہوگئی ہے۔

واسا حکام کا موقف ہے کہ دریا میں پانی نہ ہونے کے باعث شہر کی پانچ لاکھ آبادی متاثر ہورہی ہے، متعدد بار آب پاشی حکام کو خط لکھ کر پینے کا پانی چھوڑنے کی استدعا کی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

دوسری جانب کراچی میں انسداد پانی چوری سیل نے کارروائی کرتے ہوئے لاکھوں گیلن پانی چوری کی کوشش کو ناکام بنادیا ہے، حکام کے مطابق صنعتی زون کو غیر قانونی واٹرہائیڈرنٹ کےذریعے پانی فراہم کیا جارہا تھا۔

کارروائی مکینوں کی شکایت پر سائٹ سپرہائی وے گبول گوٹھ میں کی گئی، اس دوران قبضہ مافیا کی جگہ مسمار اور سامان قبضےمیں لےلیا گیا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں