نیب  نے غضنفر عباس چھینہ کے خلاف انکوائری بند کرنے کا فیصلہ کر لیا

نیب نے غضنفر عباس چھینہ کے خلاف انکوائری بند کرنے کا فیصلہ کر لیا

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممبر صوبائی اسمبلی غضنفر عباس چھینہ کے خلاف انکوائری بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس ضمن میں نیب لاہور نے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے انکوائری بند کرنے کی اجازت بھی مانگ لی ہے۔ غضنفر عباس چھینہ کے خلاف نیب لاہور آمدن سے زائد اثاثوں پر تحقیقات کر رہا تھا۔

نیب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غضنفر عباس چھینہ کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے لہٰذا انکوائری بند کردی جائے۔

نیب کو موصول ہونے والی درخواست میں شکایت کنندہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ حکومتی ایم پی اے نے سرکاری زمین میں ردو بدل بھی کیا ہے۔

قبل ازیں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ آمر کی پیداوار نیب اور ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا نیب کے اقدامات ملکی مفاد میں نہیں، نیب کا ادارہ اپوزیشن پر دباوَ ڈالنے کےلیے ہی بنا۔ تین سال سے کیس زیر سماعت ہے۔ جو ہم پہلے دن اے جانتے تھے اج پورا ملک جانتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام کو دباوَ میں لایا جارہا ہے، تین وزرائے اعظم کے خلاف کیسز کئی سال سے چل رہے ہیں۔ مہنگائی روزبروز بڑھ رہی ہے ،بےروزگار ی میں اضافہ ہوا ہے۔

تین وزیراعظم کے کیس عدالتوں میں لگے ہوئے ہیں، براڈ شیٹ اسکینڈل کی فائلیں غائب ہورہی ہیں۔ اپنے خلاف کوئی کیس اتا ہے تو اس کیس کی فائلیں ہی غائب ہوجاتی ہیں۔ کیمرے لگا کر عدالتی کارروائی عوام کو کیوں نہیں دکھاتے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیرات لیکر کورونا سے نمٹا جارہا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جس نے پولیوکا ایک ٹیکہ نہیں خریدا۔واحد ملک ہے جس نے پرائیویٹ سیکٹر کوویکسین خریدکربیچنے کی اجازت دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں