تاجکستان اور پاکستان کا تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے فورمز کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ

تاجکستان اور پاکستان کا تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے فورمز کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ

پاکستان اور تاجکستان نے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپس اور بین الحکومتی کمیشن فورمز کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو دوشنبے میں تاجکستان کی وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد تاجک ہم منصب سراج الدین مہر الدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ 30 سال سے ہمارے تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم ہوئے ہیں، ہم تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں اضافے کے اس رجحان کا تسلسل چاہتے ہیں اور تاجک صدر اور وزیر خارجہ کی جلد پاکستان آمد کے متمنی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعاون کے فروغ کے حوالے سے دو مشترکہ ڈیکلریشن 2017 اور 2018 میں طے ہو چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعاون کے حوالے سے روڈ میپ پہلے سے موجود ہے۔‎

انہوں نے کہا کہ ہم نے آج پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپس اور بین الحکومتی کمیشن جیسے موجود فورمز کو مزید فعال بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے موثر کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ روابط بڑھائیں، ہمیں تاجکستان کے وفد کی میزبانی کر کے مسرت ہو گی، ہم تاجک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعاون خوش آئند اور ہم اسے مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں، ہمارا دوطرفہ دفاعی تعاون اطمینان بخش ہے، ہمیں تاجکستان کی عسکری صلاحیت کو بہتر بنانے میں معاونت کی فراہمی پر خوشی محسوس ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے تاجک وزیر خارجہ کو یقین دلایا ہے کہ ہم توانائی کے اہم منصوبے ‘کاسا 1000’ کی جلد تکمیل کے لیے تمام کاوشیں بروئے کار لائیں گے، یہ منصوبہ نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدے کا باعث ہے بلکہ پورا خطہ اس سے مستفید ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے تاجک وزیر خارجہ کے ذریعے یہ جان کر خوشی ہوئی تاجک صدر نے افغان صدر کے ساتھ ملاقات میں سہ فریقی ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی ضرورت پر زور دیا، ہم افعان قیادت سے بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے کیونکہ یہ پاکستان، تاجکستان اور افغانستان تینوں ممالک کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

اس موقع پر تاجکستان کے وزیر خارجہ سراج الدین مہر الدین نے وفود کی سطح پر بامعنی مذاکرات پر پاکستان کے ہم منصب شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مذاکرات میں پاکستان اور تاجکستان کے مابین دوطرفہ تعلقات اور اہم عالمی و علاقائی امور پر بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون میں وقت کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، اس کے علاوہ تاجکستان اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون، ہوائی روابط، سیکیورٹی تعاون، انفرااسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

تاجک وزیر خارجہ نے کہا کہ کاسا 1000 توانائی منصوبے کی تکمیل کے لیے پاکستان کا عزم قابلِ ستائش ہے، اس منصوبے کی تکمیل سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

وزیر خارجہ کی تاجکستان کے صدر سے ملاقات

بعد ازاں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف سے صدارتی محل میں ملاقات کی۔

ملاقات میں تاجکستان کے صدر نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے مابین گہرے تاریخی و برادرانہ تعلقات ہیں جو یکساں مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی بنیاد پر استوار ہیں، خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت ان دوطرفہ مراسم کو مزید وسعت دینے اور مستحکم بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔

ملاقات کے دوران افغان امن عمل سمیت خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔

شاہ محمود قریشی نے تاجک صدر کو افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی مصالحانہ کوششوں اور ان کے ثمرات سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان، خطے کی تعمیر و ترقی کے لیے افغانستان میں دیرپا امن کو ناگزیر سمجھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں