پاکستان بھی بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے: عمران خان

پاکستان بھی بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے: عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو جوابی خط میں لکھا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام بھی بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے نریندر مودی کو جوابی خط، جس میں 29 مارچ کی تاریخ درج ہے، میں یوم پاکستان پر مبارکباد پر بھارتی وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے لکھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام بھی بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و استحکام کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کا حل ہونا، جبکہ تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہونا ضروری ہے۔

عمران خان نے خط میں کورونا وائرس کے خلاف بھارت کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے عمران خان کے نام لکھا گیا خط، جس پر 22 مارچ کی تاریخ درج تھی، اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے دفتر خارجہ کے ذریعے وزیر اعظم تک پہنچایا۔

اپنے خط میں نریندر مودی نے پاکستانی عوام کو یوم پاکستان کی مبارکباد دی۔

بھارتی وزیراعظم نے لکھا کہ ‘پڑوسی ملک کے طور پر بھارت، پاکستانی عوام سے خوشگوار تعلقات کا خواہش مند ہے جس کے لیے اعتماد پر مبنی، دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ماحول ضروری ہے’۔

یہ پیشرفت وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اب بھارت کو پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔

اسلام آباد میں منعقدہ پہلے دو روزہ سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کوشش کر رہے ہیں لیکن بھارت کو پہلے قدم آگے بڑھانا ہوگا اور جب تک وہ ایسا نہیں کرتا ہم آگے نہیں بڑھ سکتے’۔

تقریب سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ مستحکم پاک بھارت تعلقات مشرقی اور مغربی ایشیا کو منسلک کرتے ہوئے جنوب اور وسط ایشیا کی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی کنجی ہے لیکن یہ صلاحیت دونوں جوہری صلاحیت کے حامل پڑوسی ممالک کے درمیان یرغمال بنی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اس کی بنیاد ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پرامن طریقے سے مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر اس عمل کا سیاسی وجوہات کے سبب پٹڑی سے اترنے کا خدشہ لاحق رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنے کا وقت ہے، بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ذمہ داری اب بھارت پر عائد ہوتی ہے، ہمارے پڑوسی ملک کو خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں سازگار ماحول بنانا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں