چین کی مدد سے متحدہ عرب امارات میں کورونا ویکسین بنانے کا آغاز

چین کی مدد سے متحدہ عرب امارات میں کورونا ویکسین بنانے کا آغاز

متحدہ عرب امارات نے درآمد کرنے کے بجائے چینی کمپنی سائنوفارم کی کورونا ویکسین کو ملکی سطح پر تیار کرنے کا آغاز کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے امور خارجہ اور بین الاقوامی تعاون کے وزیر شیخ عبداللہ بن زائد اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے یو اے ای میں پہلی کووڈ 19 ویکسین پروڈکشن لائن کا آغاز کردیا۔

کورونا ویکسین کی ملک میں تیاری کی افتتاحی تقریب میں دونوں وزرائے خارجہ نے نئی ویکسین کا ایک پروٹو ٹائپ لیا اور ویکسین پروڈکشن سائٹ سے براہ راست رواں نشست میں شرکت سے قبل ایک یادگاری تصویر کھینچی۔

چین کے اشتراک سے شروع کیے گئے منصوبے ‘متحدہ عرب امارات لائف سائنسز اور ویکسین مینوفیکچرنگ’ میں سائنو فارم کے ساتھ جی-42 بھی شامل ہے۔ جی-42 نے متحدہ عرب امارات میں سائنو فارم ویکسین کے ٹرائل کے تیسرے مرحلے کی نگرانی کی تھی۔

متحدہ عرب امارات کو اس منصوبے کے بعد کورونا ویکسین کو درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ملک میں تیار کردہ ویکسین درآمد شدہ ویکسین کے مقابلے میں سستی ہوگی اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ جتن بھی نہیں کرنے پڑیں گے۔

متحدہ عرب امارات میں چین کی سائنو فارم، امریکا کی فائزر اور روسی کی اسپوٹنک وی ویکسین کی منظوری دی جا چکی ہے اور اب تک 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد سے شہریوں کی ویکسی نیشن کی جا چکی ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 4 لاکھ 55 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1 ہزار 481 ہے جب کہ نئی لہر میں روزانہ کی بنیاد پر 2 ہزار نئے مریض سامنے آرہے ہیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں