اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس میں نامزد وکلا کے لائسنس بحال کرنے کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس میں نامزد وکلا کے لائسنس بحال کرنے کی استدعا مسترد

عدالت نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں نامزد وکلا کے لائسنس بحال کرنے کی استدعا مسترد کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں 21 وکلا کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تمام بارز نے اس واقعے کی مذمت کی اور مجھے بارزپراعتمادہے بارکو اپنا کردار اداکرناچاہیے۔

وکلا کے وکیل محمد شعیب نے کہا کہ ایسا تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ عدلیہ وکلا کو کمزور کرنا چاہتی ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا تاثر نہیں بنایا جارہا، کوئی جے آئی ٹی نہیں بنانی کیونکہ عدالت کوبارکی آزادی پریقین ہے۔

وکلا کے وکیل نے استدعا کی کہ آئندہ سماعت تک وکلا کے لائسنس بحال کیے جائیں جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

عدالت نے اسلام آباد بار کونسل کو واقعے میں شامل وکلا کے نام بتانے کے لیے وقت دے دیا اور کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں بتائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں